حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 451 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 451

سُوْرَۃَ الْعَصْرِ مَکِّیَّۃٌ ۲ تا ۴۔۔۔۔دو صحابی آپس میں ملتے تھے تو کم از کم اتنا شغل کر لیتے تھے کہ اس سورۃ کو باہم سنا دیں۔سو اس نیت سے کہ (التوبہ: ۱۰۰) کے ماتحت رضامندی کا حصّہ مجھے بھی مل جاوے۔میں بھی تمہیں یہ سورث سناتا ہوں۔عصر کہتے ہیں زمانہ کو جو ہر آن گھٹتا جاتا ہے۔دیکھو میں کھڑا ہوں۔جو فقرہ بولا۔اب اس کے لئے پھر وہ وقت کہاں ہے۔قسم ہمیشہ شاہد کے رنگ میں ہوتی ہے۔گویا بدیہیّات سے نظریات کے لئے ایک گواہ ہوتا ہے۔تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔کہ انسان کی عمر گھٹ رہی ہے۔جیسے کہ زمانہ کوج کر رہا ہے۔عصر کی شہادت میں ایک یہ نکتہ معرفت بھی ہے۔زمانہ کو گالیاں نہیں دینی چاہئیں۔جیسا کہ بعض قوموں کا قاعدہ ہے فارسی لٹریچر میں خصوصیت سے یہ بُرائی پائی جاتی ہے۔اسی لئے حدیث شریف میں آیا ہے۔لَاتَسُبُّوا الدَّھْرَ خدا جس کو گواہی میں پیش کرے۔وہ ضرور عادل ہے۔زمانہ بُرا نہیں۔ہمارے افعال بُرے ہیں جن کا خمیازہ زمانہ میں ہم کو اٹھانا پڑتا ہے۔عصر سے مراد نمازِ عصر بھی ہے۔اس میں یہ بات سمجھائی ہے کہ جیسے شریعتِ اسلام میں نماز عصر کے بعد کوئی فرص ادا کرنے کا وقت نہیں۔اسی طرح ہر زمانہ عصر کے بعد کا وقت ہے۔جو پھر نہیں ملے گا۔اس کی قدر کرو۔عصر کے معنے نچوڑنے کے بھی ہیں۔گویا تمام خلاصہ اس صورت میں بطور نچوڑ کے رکھ دیا ہے۔غرض عصر کو گواہ کر کے انسان کو سمجھایا گیا ہے کہ وہ ایک برف کا تاجر ہے۔جو بات لڑکپن میں ہے