حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 449
ہمارے زمانہ کا امام اس کی اتباع کو نجات کا موجب سمجھتے ہیں۔پھر یہ کیسا علم ہے جو ان سب باتوں سے ہمیں غافل کر دیتا ہے۔دنیوی کاموں میں مختلف اغراضوں میں کچھ باتوں میں جھوٹی قسمیں۔حرفہ۔پیشہ۔تجارت۔ملازمت میں ایسے اعمال کہ گویا اﷲ پر ایمان نہیں۔یہاں تک کہ نمازوں میں بھی ریاء۔یہ کیا سرّہے۔سچ تو یوں ہے کہ یقین کم ہے۔۔(التکاثر۶، ۷) تم لوگ اگر یقین رکھتے تو جزا سزا کا خیال رکھ کر بُرے کاموں سے نفرت اور اچھے کاموں سے محبت رکھتے۔۔(التکاثر:۸) اور یاد رکھو کہ یہ صرف علم ہی نہیں رہے گا بلکہ تمہیں یہ بھی دکھا دیں گے کہ تمہارے اعمال کا کیا نتیجہ ہے۔۔(التکاثر:۹) اور پھر تم سے سوال کیا جائے گا کہ تمہیں ہاتھ، پاؤں ، آنکھ، کان، زبان۔علم و دولت دیا گیا۔ہادی تمہاری طرف بھیجے گئے اور پھر ہم مسلمانوں کا تو رسول ہی افضل الرسل خاتم النبیین ہے جو ہماری رہبری کے لئے آیا۔وہ تمام نبیوں کی فضیلتوں کا مجموعہ ہے۔ہماری کتاب قرآن مجید سچی۔محفوظ اور جامع کتاب ہے۔ہمارے نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم کی اُمّت میں ہمیشہ مجدّد ہوتے رہے۔اور پھر موجودہ زمانہ کا امام جس کو ہم اپنی انکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ہمارے پاس موجود ہے۔پھر اتنی غفلت! اس سے ضرور پوچھے جاؤ گے۔نتیجہ بھوگو گے۔اس غفلت کو دور کرنے کے مَیں تین علاج تم لوگوں کو بتاتا ہوں۔پہلا علاج تو ایسا ہے جو تمام انبیاء کا اجماعی مسئلہ ہے۔اور وہ ہے استغفار۔یاد رکھو۔انسان کی بدیاں اَور بدیوں کی طرف اس کو کھینچتی ہیں اور اس کی نیکیاں اور نیکیوں کی طرف اس کو کھینچتی ہیں۔استغفار کا مطلب یہ کہ اے میرے خدا میری غفلت ، غلط کاریاں اور ناراض کرنیوالی باتیں اور عندُوّل حُکمئیں جو مجھے یاد ہیں یا میری یاد سے بھول گئی ہوں۔ان کے بدنتائج سے مجھے بچالے اور آئندہ غلطیوں سے محفوظ رکھ۔دوسرا علاج یہ ہے کہ لَاحَول بہت پڑھے۔اپنی عاجزی کا اقرار کرے اور اپنے آپ کو محض کمزور اور ناکارہ سمجھے۔اس طرح سے بہت