حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 448
عیش و عشرت کے ایسے ایسے سامان میّسر آجاویں۔ایسا مکان ہو۔ایسا لباس ہو۔اور یہ سب خواہشات انسان کے شاملِ حال ہیں۔پھر ان میں غلطی کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے بھی ایک دعا سکھائی ہے رَبَّنَآ اٰتبنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً ( البقرہ:۲۰۲) اس دعا میں اﷲ کریم سے اسی دنیا میں حسنہ مانگی گئی ہے۔مگر یاد رکھو غلطی صرف یہ ہے کہ ناجائز طریقوں سے یہ خواہشات پوری کرنے کی کوشش کی جاوے۔اور ان دھندوں میں پھنس کر اپنے مولیٰ سے انسان غافل ہو جاوے۔اﷲ جل شانہٗ سے غفلت بہت بُری بلا ہے۔اکثر انسان آنکھیں بھی بند کیا کرتے ہیں۔اپنے گھٹنوں میں سر بھی رکھا کرتے ہیں۔نادان سمجھتا ہے کہ یہ جنابِ الہٰی میں دھیان لگائے بیٹھے ہیں اور روحانی نظارہ دیکھ رہے ہیں۔مگر وہ وہی دیکھتا ہے جو ظاہرًا دیکھنے کا عادی ہے۔پھر اسی غفلت عن اﷲ میں مر جاتا ہے۔۔۔اس غفلت کا بد نتیجہ تم سمجھ ہی لو گے۔پھر ہم ہشیار کر کے تمہیں کہتے ہیں کہ تم ضرور سمجھ لو گے آج جو فعل انسان کرتا ہے۔کل کے لئے یہ ایک سبب ہوتا ہے۔اور کل جو فعل انسان کریگا۔وہ پرسوں کے لئے ایک سبب ہو گا۔انسان کی عادت میں یہ بات داخل ہے۔کہ جب کبھی اسے کوئی علم حاصل ہو جاتا ہے۔بشرطیکہ وہ علم صحیح ہو اور علم والا عقلمند ہو تو پھر اس ع۴لم کے خلاف عمل نہیں کرتا۔انسان کیا۔بلکہ حيوان بھی ایسا نہیں کرتا۔دیکھو ایک اونٹ کتنا بڑا حیوان ہے۔مگر ایک بچہ بھی نکیل ڈال کر کہیں کا کہیں لئے پھرتا ہے مگر ایک گڑھے میں داخل کرنے کے لئے اسے کھینچیں تو وہ نہیں جاتا۔کیوں نہیں جاتا۔صرف اس لئے کہ اسے صحیح علم گڑھے کا حاصل ہے وہ یہ کہ اس میں ہلاکت ہے۔مَیں نے اپنے بچوں کو دیکھا ہے کہ اگر گرام غذا انہیں دیں یا ان کا ہاتھ اٹھا کر اس گرم غذا پر رکھیں تو وہ پیچے ہٹ جاتے ہیں اور کھاتے نہیں کیونکہ انہیں کیونکہ انہیں علم صحیح حاصل ہو جاتا ہے۔جو لوگ قرآن مجید کو خدا کی سچی کتاب اور محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم کو خدا کا سچّا رسول اور نبی یقین کرتے ہیں۔اَئمہ کو سچّا سمجھتے ہیں۔کسی واعظ کو سچا سمجھتے ہیں وہ سوچیں کہ کیا ان لوگوں کے ذڑیعہ سے انہیں صحیح علم حاصل نہیں ہوا کہ اِن اِن کاموں سے خدا راضی ہے۔اور اِن اِن باتوں سے ناراض ہے؟ پھر کتنے افسوس کی بات ہے کہ باوجود سُننے کے بھی تم علم کے خلاف کرتے ہو۔خوب یاد رکھو کہ صحیح علم کے خلاف کرنا بہت بُرا ہوتا ہے۔حضرت محمد رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وسلم خاتم النبیّینٗ رُسول ربّ العالمین ہمارا رہبر ہے اور ہمارے