حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 447
سُوْرَۃَ التَّکَا ثُرِ مَکِّیَّۃٌ ۲ تا۹۔۔۔۔۔۔۔۔۔اﷲ جل شانہٗ نے انسان کو ایسا تو بنایا ہے۔کہ یہ کھانے کا بھی محتاج ہے۔پینے کا بھی محتاج ہے۔کپڑے کا بھی محتاج ہے۔مکان اور بیوی کا بھی بہت محتاج ہے۔بچوں کی بھی ایک حاجت مخفی در مخفی رکھتا ہے۔عزّت کو بھی چاہتا ہے اور ذلّت سے بھی بچنا جاہتا ہے۔غرض اﷲ تعالیٰ نے انسان کو بہت سی خواہشیں لگا رکھی ہیں۔جس سے کوئی انکار نہیں ہو سکتا۔ہاں اگر کوئی پاگل ہو تو اور بات ہے۔پاگل اور عقلمند میں بھی ایک بڑا بھاری فرق ہے۔پاگل کی باتیں سن سن کر عقلمند بول اٹھا کرتے ہیں کہ یہ تو بڑا احمق ہے۔بہت بولتے رہنا اور زیادہ بکواس کرتے رہنا بھی احمق کا کام ہے۔اور جو آٹھوں پہر چُپ رہے۔وہ بھی پاگل ہوتا ہے۔بہت بولنا اور بہت چُپ رہنا پاگل اور احمق کا نشان ہے۔جو شخص ہمیشہ کھانے پینے میں مصروف رہے وہ بھی پاگل اور جو نہ کھائے وہ بھی پاگل۔غرض جب بات حد سے بڑھ جائے تو وہ جنون ہوتا ہے۔ضرورتیں تو بے شک انسان کو بہت لگی ہوئی ہیں۔خواہ کتنے ہی امور کیوں نہ ہوں اور خواہ کیسی ہی حاجتیں کیوں نہ ہوں۔ان تمام کاموں میں انسان تکاثر کو چاہتا ہے۔اکثر اوقات انسان چاہتا ہے کہ