حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 446 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 446

: ہاویہ کو اُمّ کہنے میں یہ مطلب ہے۔کہ جب تک تربیت یافتہ نہ ہو۔ماں سے تعلق رہتا ہے۔بعد تربیت پا لینے کے ماں سے علیحدگی ہو جاتی ہے۔اس لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ بعد طول مکث کے دوزخی دوزک سے نکال دئے جائیں گے۔ھاویہ۔طبقے بھی نکال دئے جائیں گے۔جو سب سے نیچے کا طبقہ ہے۔اسی لئے وہ طبقہ ہاویہ کہلاتا ہے۔اُمّ اور ھوٰی دونوں ایک جا جمع ہونے سے یہ اشارۃً پائی جاتی ہے۔: نارِ دوزخ اور نارِ حرب دونوں مراد ہیں۔حرب کو بھی نار ہی فرمایا ہے۔(مائدہ: ۶۵) ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۹؍ستمبر ۱۹۱۲ء) ’’ تمام وہ لوگ جن کے اچھے اعمال نہیں۔یا ان کے اچھے اعمال کم ہیں۔وہ دوزخ میں جائیں گے دوزخ کی گود میں رہیں گے وہی ان کی ماں ہے۔دیکھو قرآن۔۔۔۔۔اور جن کے تول ہلکے ہوئے تو اس کا ٹھکانہ گڑھا۔اور تجھ کو نہ معلوم ہوا کہ وہ کیا ہے آگ ہے دھکتی ہوئی۔بھلا جن کی ماں دوزخ کی گرم آگ ہوئی۔وہ لوؤں کی آگ سے نہ بنے ہوں تو پھر کس سے نہیں سنو۔سارے شریر شیطان یا شیطان کے فرزند ہیں ( یوحنا باب ۸ آیت ۴۴ٗ متی باب ۱۳ آیت ۳۹۔متی باب ۱۶ آیت ۲۳)۔جس طرح شریر شیطان کا فرزند ہے۔اور عیسائی مسیح کے فرزند۔اُسی طرح دوزخ کی آگ شریر کی ماں ہے۔اور وہ لوؤں سے کیونکر نہ بنا ہو گا۔ضرور وہ ہمارا دشمن نارالسّموم سے بنا۔وہ تو پہلے ہی سموم نار سے بنا تھا۔اور یہی سچی فلسفی ہے۔جس کے خلاف پر کسی کے پاس کوئی دلیل نہیں۔‘‘ ( فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۱۷۹)