حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 41 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 41

۶۔۔تورات میں کچھ شمسی حسابات ہیں، دونوں میں غور کرو۔نبی کریمؐ کی پیدائش کا وقت مل جائے گا۔( تشحیذالاذہان جلد ۸ نمبر۹ صفحہ ۴۸۳) انسان کے الفاظ میں کمزوری ہے۔انسان کے فلسفے میں کمزوری ہے۔جوں جوں زمانہ نئے نئے علوم دریافت کرتا ہے۔وہ اپنے حالات، اپنی اصطلاحات کو بدلتا جاتا ہے۔لیکن خدا کے کلام میں اس قسم کی کمزوری نہیں ہوتی۔بلکہ جوں جوں سائنس ترقی کرتی ہے۔اس کی صداقت ظاہر ہوتی ہے۔دیکھئے انسان کے جبرو اختیار میں بعض علماء نے بڑی بحث کی ہے۔اور اس میں کوئی فیصلہ کُن بات نہیں کہہ سکتے۔قرآن مجید نے ان الفاظ کو اختیار ہی نہیں کیا بلکہ ان کی بجائے استطاعت ، مقدرت اور تمکّن فرمایا اور اعجاز معجزے کے بدلے سلطان و آیات رکھا۔اسی طرح حُسْبَانٍ ایسا لفظ ہے کہ تمام دنیا کا فلسفہ پرانا ہو یا نیا۔اس کو نہیں جھٹلا سکتا۔بخاری نے اس کے معنے کئے ہیں حُسبان کحسبان الرَّحٰی۔سورج اور چاند کا حساب دیکھو۔ایک سیکنڈ کی بھی اس میں غلطی نہیں ہوتی۔اگر ہم قطب شمالی یا قطب جنوبی میں ہوں تو چاند اور سورج چکّی کی طرح چلتے معلوم ہوتے اور اگر ہم خطِ استوا پرسوں تو فلک الغزل چرخ کی طرح چلتے معلوم ہوں گے۔اور حُسْبَانٍ ان دونوں صورتوں میں صادق آتا ہے۔( تشحیذالاذہان جلد ۷ نمبر۵ صفحہ۲۲۶) ۹۔۔ہر چیز۔ہر کام۔ہر کامیابی کے لئے ایک اندازہ مقرّر ہے۔اس سے باہر نہ جاؤ۔( تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۳) ۱۳۔۔: یہ تمام چیزیں کسی کام کے لئے بنائی گئیں تو کیا تو اے انسان نکمّا۔تو بھی کوئی کام کر۔( تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ۴۸۳) ۱۸۔۔