حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 40 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 40

سُوْرَۃُ الرَّحْمٰنِ مَکِّیَّۃٌ  ۲،۳۔۔۔انسان بڑا کمزور۔ناتواں اور سُست ہے۔علمِ حقیقی سے بہت دور ہے۔آہستگی سے ترقی کر سکتا ہے ہم تو چیزہی کیا ہیں۔اُس عظیم الشان انسان علیہ الف الف صلوٰۃ والسلام کی بھی یہ دعا تھی۔رَبِّ ِّ (:۱۱۵)تو جب خاتم الانبیاء۔افضل البشرؐ کو بھی علمی ترقی کی ضرورت ہے جو اَتْقَی النَّاس اَخْشَی النَّاس۔اَعْلَمُ النَّاس ہیں اور ان کے متعلق ۔ وارد ہو جانے کے باوجود بھی ان کو ترقیٔ علم کی ضرورت ہے تو ہماوشما حقیقت ہی کیا رکھتے ہیں۔کہ ہم علمی ترقی نہ کریں اگر میں کہہ دوں کہ مجھے کتابوں کا بہت شوق ہے اور میرے پاس اﷲ کے فضل سے کتابوں کا ذخیرہ بھی تم سب سے بڑھ کر موجود ہے۔اور پھر یہ بھی اﷲ کا خاص فضل ہے کہ مَیں نے ان سب کو پڑھا ہے۔اور خوب پڑھا ہے۔اور مجھے ایک طرہ کا ہق بھی حاصل ہے کہ ایسا کہہ سکوں۔مگر بَاِیْں مَیں نہیں کہہ سکتا۔کہ مجھے علم کی ضرورت نہیں۔بلکہ مجھے بھی ترقی علم کی ضرورت ہے اور سخت ضرورت ہے۔علم سے میری مراد کوئی دنیوی علم اور ایل ایل بی اور ایل ایل ڈی کی ڈگریوں کا حصول مراد نہیں ہے۔لاَحَوْلَ وَ لَا قُوََََّّّّّۃَ اِلَّا بِاﷲ بلکہ ایسا تو کبھی میرے وہم و گمان میں بھی نہیں آیا اور نہ ہی ایسی میری کبھی اپنی ذات یا اپنی اولاد کے واسطے خواہش ہوتی ہے۔عام طور پر لوگوں کے دلوں میں آج علم سے بھی ظاہری علم مراد لیا گیا ہے۔اور ہزارہا انسان ایسے موجود ہیں کہ جن کو دن رات یہی تڑپ اور لگن لگی ہوئی ہے۔کہ کسی طرح وہ بی اے یا ایم اے یا ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کر لیں۔ان لوگوں نے اصل میں ان علوم کی دُھن ہی چھوڑ دی ہے۔جن پر سچے طور پر علم کا لفظ صادق آ سکتا ہے۔پس ہماری مراد ترقی علوم سے خدا کی رضا مندی کے علوم اور اخلاقِ فاضلہ سیکھنے کے علوم وہ علوم جن سے خدا کی عظمت اور جبروت اور قدرت کا علم ہو اور اس کے صفات۔اس کے حسن و احسان کا علم آ جاوے۔غرض وہ کُل علوم جن سے تعظیم لامر اﷲ اور شفقت علیٰ خلق اﷲ کا علم آ جاوے۔مرادہیں۔(الحکم ۱۸؍اپریل ۱۹۰۸ء صفحہ ۱۴)