حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 432 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 432

سُوْرَۃَ الْبَیِّنَۃِ مَدَنِیَّۃٌ ۲ تا۴۔۔۔۔… کے معنے یہ ہیں کہ اہلِ کتاب کے تمام فرقے اور مشرکین کے تمامی فرقے شرک اور بُت پرستی کے اغلال سے کبھی چا ہونیوالے نہ تھے۔اگر بیّنہ نہ آتی۔آگے بیّنہ کے معنی خود ہی بیان فرما دئے۔آیت شریفہ میں پتہ دیا گیا ہے۔اس بات کا کہ رسول کے انے کا زمانہ کب ہوتا ہے۔پہلے پارہ کے جودہویں رکوع میں بھی رسول کے آنے کا زمانہ کب ہوتا ہے۔پہلے پارہ کے چودہویں رکوع میں بھی رسول کے آنے کے زمانہ کی خبر دی ہے۔جہاں فرمایا ہے (بقرہ:۱۱۴) اورمزہ یہ ہے کہ دونوں ہی فرقے آسمانی کتاب سے استدلال لے رہے ہیں۔دونوں فرقوں کے پاس آسمانی کتاب ہو اور پھر وہ باہم استدلال میں ایک دوسرے کی مخالفت میں تُل جائیں۔تو بالطبع ضروری اور لازمی ہو گا کہ کوئی تیسرا حَکم اور عدل آوے اور خدائی فیصلہ ان کو خدا کی طرف سے سنا دے۔یہی حال ہمارے وقت میں اندرونِ اسلام قرآن کریم ہی سے تمسّک کرنے والے مسلمانوں کا ہو گیا تھا۔اہلِ حدیث غیر اہلِ حدیث کے اور ائمہ سلف کے متّبعین باہم ایک دوسرے باوجود ای ہی آسانی کتاب کے متمسک ہونے کے سخت مخالف ہو گئے تھے۔وقت بتلا رہا تھا کہ اب کوئی اسمانی حکم اور عَدل اوے۔سو خداوند تعالیٰ کے فضل و کرم سے بمقتضائے وقت حکم و عدل آیا۔چاہیئے تو تھا