حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 431 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 431

۶۔۔زبان خلق نقارۂ خدا۔یہ جملہ ایک حد تک بہت صحیح ہے۔عام طور پر ہمارے اس موجودہ زمانہ کو روشنی کا زمانہ، روشنی کا زمانہ کہا جا رہا ہے۔مگر غور سے اسے دیکھا جاوے تو یہ روشنی کا زمانہ بانی علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وقت سے ہی شروع ہو گیا ہے اور اب توضحٰی کا وقت ہے۔حدیث شریف میں آیا ہے۔کہ دابّۃ الارض ضحٰی کے وقت نکلے گا یَخْرُجم الدّنابَّۃُ عَلَی النَّاسِکہ دابَّۃُ الْاَرْض نہیں نکلا تو کہنا پڑیگا۔کہ روشنی کا زمانہ اس زمانہ کو کہنا بھی غلط ہے۔مگر نہیں زمانہ ضرور روشنی کا ہے۔اور دابۃ الارض نے بھی زمینی علوم اور سائنس کی ایجادوں میں بڑی ترقی کی ہے اور مِنْ کُلِّ اَمْرٍ سَلَامٌ اور ھِیَ حتّٰی مَطْلَعِ الْفنجْرِ کا جو دینی ترقیات کا دوسرا پہلو ہے۔وہ اس شخص کی ذاتِ بابرکات سے وابستہ ہے۔جس نے دنیا میں آکر بڑے زور سے چّلا کر کہا ؎ مُؤیّدے کہ مسیحا دم است و مہدیٔ وقت بشانِ اُو، دِگرے کَے زاَتْقیَا باشد چو غنچہ بود جہانے خموش و سر بستہ من آمدم بقدومی کہ ، از صبا باشد (تریاق القلوب صفحہ ۳) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۲؍اگست ۱۹۱۲ء)