حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 423 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 423

۱۶۔۔سَفْعٌ کے معنے زور سے کھینچنے اور گھیسٹنے کے ہیں۔نَاصِیَۃ پیشانی اور مقدم ِراس کے بال۔غیظ و غضب کے وقت پیشانی پر بل ڈال کر نہایت ڈراؤنی شکل سے انسان اس کو گُھر کتا ہے۔جس کو مغلوب کرنا چاہتا ہے۔یہ خرکت پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہل وسلم کے ساتھ ابوجہل نے کعبہ میں کی تھی اور پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کو نماز پڑھنے سے منع کیا تھا۔اس لئے یہ پیشینگوئی اس کے حق میں بدر کے دن پوری ہوئی کہ ناصیہ سے پکڑ کر گھیسٹ کر گڑھے میں اس کی لاش کو ڈالا گیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۲؍اگست ۱۹۱۲ء) ۱۸،۱۹۔۔۔نَادِی سے اہل نادی مراد ہیں۔اور نادی کے معنی مجلس کے ہیں۔کَمَا قَالَ اﷲُ تَعَالٰی ونتَاْتُوْنَ فِیْ نَادِیْکُمُ الْمُنْکَرَ ( العنکبوت:۳۰)مکّہ کے دارالندوہ کو اسی لئے نادی کہا کہ اس میں مشورہ کرنے کے لئے لوگوں کو پکار کر بلایا جاتا تھا۔جی چاہتا ہے کہ ہمارے وطن کے علماء جو قوم کے پیشوا کہلاتے ہیں اپنے لئے بجائے ندوۃُالعماء کے قمدوۃُ العماء نام تجویز کر لیں تو بہت ہے۔بُلْبُلَا مثردۂ بہار بیار خبر بَد بہ بُومِ شُوم گذار کَلِمَۃُ الْحِکْمَۃِ ضَآلَّۃُ الْمُؤْمِنِ اَخَذَھَا حَیْثُ وَ جَدَھَا زَبْانِیّۃَ: زبن سے مشتق ہے جس کے معنے دفع کے ہیں۔جنّ و انس میں سے ہر متمرّد شخص زَبْنِیْۃ کہتے ہیں۔اکثر اہل لغت کا قول ہے۔کہ زبانیہ ان جمعوں میں سے ہے۔جن کا مفرد نہیں۔جیسے ابابیل وغیرہ۔غرض کہ زبن جس کے معنے دفع کے ہیں۔ابتداء ہی سے اسلام میں یہ قاعدہ رکھا گیا ہے کہ جنگ صرف دفاعی طور پر کی جائے۔آیت بالا کے الفاظ کی ترتیب بھی یہی تعلیم دے رہی ہے۔پہلا مقابلہ نادیہ اور زبانیہ کا اسلام میں بدر کے دن ہوا۔لکھا ہے کہ مکّہ معظمہ میں حضرت عبداﷲ بن مسعود رضی اﷲ عنہ کو ابوجہل نے ایسا طمانچہ مارا تھا۔جس سے ان کا کان پھٹ گیا تھا۔بدر کے دن حضرت عبداﷲ بن مسعودؓ کو اﷲ تعالیٰ نے ابوجہل کا سر کاٹنے کے لئے اس پر مسلّط کیا تھا۔جب سرکاٹ چکے تو اس کے کان میں رسّہ