حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 417
مبحث سے کارج ہے۔اور جو فاران طور یا سینا کے قرب میں واقع ہے۔وہ فاران نہیں جو ابراہیم ؑ کے وقت تھا۔وہ نہیں جس کا تورات میں ذکر ہے۔وہ نہیں جہاں ہاجرہ نے اسمٰعیل کے ہمراہ بیر شبع میں راستہ گم کر کے اقامت کی اور وہ نہیں جہاں ابتداًء اسمٰعیل کی اولاد آباد ہوئی۔وہ نہیں جہاں سے بعد سعیر خدا نے ظہور کیا۔ہاں بلاشبہ زمانے کے دَور میں اسمٰعیل ؑ کی اولاد حجاز سے نکل کر تمام عرب میں خلیجِ فارس تک پھیل گئی۔پس اگر حجاز کے سوا اور جگہ سے پُرانے ایسے کھنڈرات ملے ہوں جو بنی اسمٰعیل کے ناموں کے مشابہ ہوں یا مطابق تو وہ اس نفس الامری بات کو اٹھا سکتے ہیں کہ اسمٰعیل ؑ حجاز میں اباد ہوا۔جو فاران سینا کے مغرب میں ہے۔اور جس کے آثار ملے ہیں۔وہ توریت کا فاران نہیں۔موسٰی کے زمانے میں اس کا وجود نہ تھا۔موسٰی مصر سے نکلے بہرب احمر سے پار ہوئے۔تو شور میں پہنچ کر سین کو طے کر کے رفیدیم میں ٹھہرے وہاں خروج باب۱۹ آیت ۲ تا ۲۴ میں ہے عمالق آن کر اُترے۔اس سے ثابت ہوتا ہے۔عمالیق رفیدیم کی نہ تھی۔یہاں یاد رکھو کہ رفیدیم کوہ سینا کے مغرب اور مصر کے شرق میں ہے۔پھر رفیڈیم سے موسٰے مشرق کی طرف سینا کو چلے اور سینا میں پہنچے۔اس سینا کے غربی فاران کا ذکر موسٰی نے نہیں کیا۔پھر سینا سے آگے بڑھے اور شمال مشرق کو چلے۔اس راہ میں حضرت موسٰی کہتے ہیں۔بنی اسرائیل۔بیابان سے نکلے اور بادل بیابان فاران میں ٹھہر گیا۔(گنتی باب۱۰آیت ۱۱ تا ۱۳) اس تقریر سے ثابت ہو گیا کہ حصرت موسٰیؑ کے وقت فاران کوہ سینا کے شمال مشرق میں قادیش کے قریب واقع تھا اور وہی حجاز کا بیابان ہے۔نہ غربی نشیب سینا کا۔البتّہ ایسا معلوم ہوتا ہے۔عرب کی ایک قوم جو فاران بن حمیر کی اولاد میں سے تھی اور بنی فاران کہلاتی تھی کسی زمانے میں سینا کے مغرب میں آباد ہوئی اور اس سبب سے وہ مقام فاران مشہور ہو گیا۔یہ وہ فاران نہیں جس کا ذکر تورات میں ہے (خطبات الاحمدیہ بتبدیل یسیر) ( فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۳۶ تا صفحہ ۴۴) تِین اور زیتون۔ان دو چیزوں کو قسمیہ بطور شہادت کے اس لئے بیان کیا کہ علاوہ غزا کے جسمانی امراض کے لئے بھی بطور دوا کے یہ دونوں چیزیں استعمال کی جاتی ہیں۔کبھی طبیب تِین تجویز کرتا ہے تو کبھی تبدیل نسخہ کے لئے زیتون مفید سمجھتا ہے۔زیتون کو مؤخر اور تِین کو مقدّم ذکر کرنے کی وجہ انشاء تعالیٰ آگے بیان ہو گی۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۵؍اگست ۱۹۱۲ء) ۳،۴۔۔۔