حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 416 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 416

گیارہواں بیٹا نافیشِ تھا۔مسٹر فاسٹر جو زیفس اور تورات کی سند سے لکھتے ہیں کہ عریبیا ڈیزرٹا میں اُن کی نسل کے نام سے آباد تھے۔بارہواں بیٹا قدِمہ انہوں نے بھی یمن میں سکونت اخیتار کی۔مؤرخ مسعودی نے لکھا ہے کہ اصحاب الرس اسمٰعیل ؑ کی اولاد میں سے تھے اور وہ دو قبیلے تھے۔ایک کو قدمان اور دوسرے کو یامین کہتے تھے۔اور بعضوں کے نزدیک دعویلؔ اور یہ یمن میں تھے۔اب اس تحقیقات سے جو جغرافیے کی رُو سے نہایت اطمینان کے قابل ہیں دو باتیں ثابت ہو گئیں ایک یہ کہ حضرت اسماعیل ؑ اور ان کی تمام اولاد عرب میں آباد ہوئی اور دوسرے یہ کہ مرکز اس خاندان کی آبادی کا حجاز تھا۔جہاں اسمٰعیل ؑ کی مقدم اولاد کا مسکن ہوا تھا اور پھر اُس مرکز سے ار طرف عرب میں پھیلے۔پس ثابت ہوا۔کہ حصرت اسمٰعیل ؑنے حجاز میں سکونت اختیار کی تھی اور اسی کا قدیم نام فاران ہے جو حصرت موسٰی اور حصرت حبقوق نے اپنی اپنی بشارتوں میں بتایا۔عیسائیوں کے اعتراض اگرچہ یہ بات نہایت صفائی سے طاہر ہے کہ وادیٔ حجاز اور وادیٔ فاران دونوں ایک ہیں۔اور اسمٰعیلٔ کی اولاد کے ٹوٹے پھوٹے کھنڈر اس کی گواہی دے رہے ہیں۔مگر بایں ہمہ عیسائی اس کو تسلیم نہیں کرتے۔اور موقع فاران کی نسبت مفصّلہ ذیل تین رائیں قرار دیتے ہیں۔۱۔یہ کہ وہ اس وسیع میدان کو جو بیرشبع کی شاملی حد سے کوہ سیناتک پھیلا ہوا ہے۔فاران کہتے ہیں۔۲۔قادیس جہاں ابراہیمؑ نے ( بیرشبع ) کھودا اور فاران ایک ہے۔۳۔فاران اسی وادی کا نام ہے جو سینا سے غربی نشیب پر ہے۔جہاں قبریں عمارتیں اب ملی ہیں۔جواب ۱۔بتاو یہاں اسمٰعیل ؑ اور اس کی صلبی اولاد کب آباد ہوئی۔۲۔کتاب ۳۔۱۳۔۲۰،۲۶ وہ سردار کنعان کو دیکھ کر پھرے تو بیانانِ فاران میں سے قادیش میں پہنچے (قادیش شمالی حد فاران کی ہے) یاد رہے اس آیت کی اصل عبری عبارت یہ ہے۔اِلْ مِدْبَرْ فَارَان قَادبشِیَّہ۔لفظی ترجمہ طرف وادی فاران کے بہ نیل مرام۔قادیش کے معنے حائل کے بھی ہیں دیکھو ترجمہ انقلس۔فاران تین ہیں۔ایک حجاز میں۔دوسرا طور یا سینا کے پاس تیسرا سمرقند میں۔سمرقند والا فاران