حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 405
۵۔۔آیت شریفہ میں پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم کی یَوْمًا فیومًا سَاعَۃً بَعْدَ سَاعَۃٍ ہر آن لا انتہاء ترقیات کا ذکر ہے۔ہر اگلا قدم آپ کا پچھلے قدم سے بڑھ کر رہا۔امّت کے جس قدر حسنات ہیں۔جس قدر درود شریف دنیا میں آپؐ پر پڑھا جا رہا ہے۔کسی دوسرے بانی مذہب کے لئے اس قدر دعائیں نہیں کی جاتیں۔اَللّٰھُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍ وَ عَلٰی اٰلِ مُحَمَّدٍ وَ بَارک وَسَلّم۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۸؍اگست ۱۹۱۲ء) ۶۔۔سورۃ الفتح اور سورۃ الکوثر سے بڑھ کر اور کوئی تفصیل اس آیت کی کیا ہو سکتی ہے۔آپؐ نے یہ بھی فرمایا ہے کہ جب تک ایک بھی اُمّتی میرا دوزخ میں رہے گا۔میں راضی نہ ہوں گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۸؍اگست ۱۹۱۲ء) ۷ تا ۱۲۔۔۔۔۔۔اس سورہ شریف کے ابتداء سے اخیر تک ایک عجیب طور پر لفّ و نشر بیان ہوا۔آیات ۲۔۷۔۱۰ ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں اور آیات ۵۔۸۔۱۱ ایک دوسرے کے بالمقابل ہیں۔قَلٰی کے مقابلہ میں یَتِیْمًا فَاٰوٰی اور فَاَمَّا الْیَتِیْمن فَلَا تَقْھَرْ ہے۔خَیْرٌلَّکَ مِنَ الْاُوْلٰی کی تشریح ضَآلًّا فَھَدٰی سے اور اَلسَّئِلَ فَلَاتَنْھَرْ سے کی۔اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا کہ ضَآلّ کے معنے سائل یعنی سالک راہِ طریقت کے ہیں۔جیسا کہ قرآن شریف میں دوسری جگہ اِنَّکَ لَفِیْ ضَصلَالِکَ الْقَدِیْمِ ( یوسف: ۹۶) فرمایا۔یعنی آپ تو یوسف کی محبت میں اپنے آپ کو گُم گشتہ کئے ہوئے ہو۔ی