حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 395 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 395

اور قسم ہے انسان کے نفس کی اور اس کی جس نے اسے اعتدالِ کامل اور وضع استقامت کے جمیع کمالاتِ متفرقہ عنایت کئے اور کسی کمال سے محروم نہ رکھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۸؍اگست۱۹۱۲ء) ۹ تا ۱۲۔۔۔ ۔۔یعنی خدائے تعالیٰ نے نفسِ انسان کو پیدا کر کے ظلمت اور نوارانیت، ویرانی اور سبھی کی دونوں راہیں اس کے لئے کھول دی ہیں۔جو شخص ظلمت فجور یعنی بدکاری کی راہیں اختیار کرے تو اس کو ان راہوں میں ترقی کے کمال درجہ تک پہنچایا جاتا ہے۔اور اگر پرہیزگاری کا نورانی راستہ اخیتارکرتا ہے تو اس نور کو مدد دینے والے الہام اس کو ہوتے ہیں۔جس شخص نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا اور بکلّی رزائل اور اخلاقِ ذمیمہ سے دستبردار ہو کر خدائے تعالیٰ کے حکموں کے نیچے اپنے تئیں ڈال دیا۔وہ اس مراد کو پہنچ گیا اور اپنا نفس اس کو عالم صغیر کی طرح کمالات متفرقہ کا جامع نظر آئے گا۔لیکن جس شخص نے اپنے نفس کو پاک نہیں کیا۔بلکہ بے جا خواہشوں کے اندر گاڑ دیا۔وہ اس مطلب کے پانے سے نامراد رہے گا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۸؍اگست۱۹۱۲ء) ۱۴۔۔اس وقت کے رسول نے نصیحت کے طور پر کہا کہ یعنی خدائے تعالیٰ کی اونٹنی اور اس کے پانی پینے کی جگہ کا تعرض مت کرو۔یہ ایک نہایت لطیف مثال ہے جو خدائے تعالیٰ نے انسان کے نفس کو  سے مشابہت دینے کے لئے اس جگہ لکھی ہے۔مطلب یہ ہے انسان کا نفس بھی درحقیقت اسی غرض کے لئے پیدا کیا گیا ہے۔کہ تا وہ ناقۃ اﷲ کا کام دیوے۔اور اس کے فنا فی اﷲ ہونے کی حالت میں خدائے تعالیٰ اپنی پاک تجلّی کے ساتھ اس پر سوار ہو جیسے کوئی اونٹنی پر سوار ہوتا ہے۔سو نفس پرست لوگوں کو جو حق سے منہ پھیر رہے ہیں۔تہدید اور انذار کے طور پر فرمایا کہ تم لوگ بھی قومب ثمود کی طرح  کا سُقیا یعنی اس کے پانی پینے کی جگہ جو یادِ الہٰی اور معارفب الہٰی کا چشمہ ہے جس پر اس ناقۃ کی زندگی موقوف ہے۔اس پر بند کر رہے ہو۔اور نہ صرف بند بلکہ اس کے پَیرکاٹنے کے