حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 389
اﷲ تعالیٰ کا عذاب رویت عذاب سے پہلے توبہ اور استغفار سے ٹل جاتا ہے۔اور یہی سنت اﷲ ہے۔مگر جب عذاب کی رویت ہو جاوے تو پھر توبہ استغفار و انابت الی اﷲ بھی کام نہیں پڑتے۔جیسا کہ فرمایا (مومن:۸۶) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء) ۲۵۔۔حیات موت کے بعد کی جاودانی زندگی کو کہا گیا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء) ۲۸ تا ۳۱۔۔ ۔۔۔ہر سورۃ کے ابتداء کو اس کے آخر سے لطیف مناسبت معلوم ہوتی ہے۔سورۃ شریفہ کی ابتدائی آیات میں اوقاتِ مخصوصہ منجملہ ان کے عشرہ آخرہ رمضان المبارک اور ان کے شفع اور وتر کا ذکر تھا۔جن میں اعتکاف کیا جاتا ہے۔تخلیہ ہو اور اطمینانِ قلب نہ ہو تو وہ اوقات باہرکات بھی مفید نہیں پڑتے۔چوہر ساعت از نو بجائے رود دل بہ تنہائی اندر صفائی بینی ورت مال وجاہت وزرع و تجارۃ چو دل باخدایست خلوۃ نشینی اطمینانِ قلب نہ حاصل ہونے کی ایک وجہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی بیان فرمائی ہے اور وہ یہ ہے ؎ از طمع جستیم ہر چیزے کہ آں بیکار بود خود فزوں کرویم ورنہ اندکے آزاد بود (ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء) خ خ خ