حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 385
(الفجر:۱۳،۱۴) مجھ کو یقین ہے کہ جہاں بڑے بڑے لوگ ہیں وہاں بڑے بڑے سامان بہت سے مل سکتے ہیں۔ان مکانوں کو چھوڑ کر جب کوئی یہاں ۱؎ آتا ہے تو وہ ہم کو بطور نمونہ کے دیکھتا ہے۔ابھی ایک شکض بنگالہ سے یہاں آئے تھے۔اتفاق سے ان کو مہمان کانہ میں کوئی داڑھی منڈا موچھڑیالہ شخص مل گیا۔انہوں نے مجھ سے شکایت کی کہ ہم تو خیال کرتے تھے کہ قادیان میں فرشتے رہتے ہیں۔یہاں تو ایسے لوگ بھی ہیں۔تھوڑی دیر کے بعد وہ شخص بھی آ گیا۔جس کی شکل سے مجھ کو شبہ ہوا کہ یہ مسلمان ہے یا ہندو۔میں نے اس سے پوچھا کہ آپ کیسے آئے؟کہنے لگا کہ میں بیمار ہوں علاج کرانے کے لئے یہاں آیا ہوں۔( باہر سے آنیوالے احباب کو چاہیئے کہ حسنِ ظن سے کام لیا کریں۔جلدی سے اعتراص کرنا اچھا نہیں۔وہ شخص غیر احمدی تھا۔علاج کے واسطے آیا ہوا تھا۔اور سب انسان یکساں حالت میں ترقی نہیں کرتے۔اور نہ سب فرشتے بن سکتے ہیں۔ہر شخص اپنی عقیدت اور اخلاص کے مطابق خدا سے بدلہ پاتا ہے۔( ایڈیٹر) الغرض جب لوگ یہاں آتے ہیں تو تم کو بہت دیکھتے ہیں۔اب تم کو دیکھنا چاہیئے کہ اگر تم اصلاح کے لئے آئے ہو تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جہاں امن اور اصلاح ہو۔وہاں فساد اور شرارت بُری بات ہے۔جہاں کوئی مصلح آیا ہو۔وہاں فساد کیسا؟ اب تم ہی بتاؤ کہ اگر تم یہاں فساد کرو تو فَصَبَّ عَلَیْھِمْ رَبُّکَ سَوْطَ الْعَذَابِ کے سب سے بڑھ کر مستحق ہو یا نہیں۔مَیں تمہارے سامنے بطور اپیل کے پیش کرتا ہوں جنابِ الہٰی مکّہ والوں کو فرماتے ہیں کہ تم ہی انصاف کرو۔۔کیا کوئی عقل مند ہے جو ہماری بات کو سمجھ جائے اور تہہ کو پہنچ جائے۔باہر تم گند کرو تو اس قدر نقصان نہیں پہنچا سکتے۔جس قدر یہاں پہنچا سکتے ہو۔جناب الہٰی فرماتے ہیں۔(الفجر:۱۶)بعض کو آسودگی سے ابتلاء میں ڈالتے ہیں۔وہ جناب الہٰی کے فضل کی طرف دیکھ کر کہتے ہیں۔۔جب تکلیف پہنچتی ہے تو کہتے ہیں رَبِّی اَھَانَنْ کہ ہماری بڑی اہانت ہوئی۔مَیں تم کو اور اپنے آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر کسی کو یہ تعلیم ناپسند ہے اور یہاں تم کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا تو تمہارے یہاں سے چلے جانے میں کوئی حرج نہیں۔۔(الفجر:۱۸،۱۹)یتیموں کا تم لحاظ کرو۔وہ میرے س آتے ہیں۔میرے میں اتنی گنجائش نہیں۔میری اتنی آمدنی نہیں کہ ۱؎ قادیان۔مرتّب