حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 380 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 380

۱۸۔۔اس آیت شریف اور اس کے مابعد کی اور تین آیتوں میں صبر اور استقلال اور مصائب کے وقت یک رنگی کا بیان ہے۔سب سے پہلے اونٹ کا ذکر فرمایا کہ کس طرح وہ بارکش اور نافع للناس وجود ہے۔مولانا رومی فرماتے ہیں: ؎ برخواں اَفَلَایَنْظرون قدرت مابینی بکرہ بشتر بنگر تاصنع خدا بینی در خار خوری قانع، دربار کشی راضی ایں وصف اگر جوئی در اہل صفا بینی علیٰ ھذا القیاس نزولِ بلا کے وقت اہلِ صفا آسمان کی طرح مرفوع الاحوال پہاڑوں کی طرح مستقل المزاج اور زمین کی کسادگی کی طرح وسیع الحوصلہ ہوتے ہیں۔بعض کوتاہ نظر معترضوں نے ابلؔ سماءؔ جبالؔ اور ارضؔ ان چار مناظر کو ایک جگہ مذکور دیکھ کر اعتراض کیا ہے کہ کلام بے ربط ہے۔کوئی بات آسمان کی ہے تو کوئی زمین کی۔ایک جانور ہے تو دوسرا پہاڑ۔یہ اعتراض قلّت تدبّر اور سوء فہم کی وجہ سے ہے۔ورنہ مناسبت ایسی تام اور ابلغ ہے کہ نظارۂ قدرت میں اس سے بڑھ کر جامع الصّفات چیزیں دوسری ہیں نہیں جو فہمائش کے لئے پیش کی جائیں۔۲۲۔۔میں ایک دفعہ قرآن پڑھ رہا تھا۔کسی تذکرے میں بات پر بات چلی۔تمام بھلائیوں اور برائیوں پر جب ہمارے فطری قوٰی گواہی دیتے ہیں تو انبیاء و رُسل کی ضرورت کیا تھی۔اُس وقت یہ آیت سامنے کھڑی پُکار رہی تھی۔تم نہیں سمجھتے۔تمہارے نبی کے حق میں الہٰی کلام اور میرا متکلّم کیا کہتا ہے۔ سو تو سمجھا۔تیرا کام یہی سمجھانا ہے۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۹) ۲۳۔۔مُصَیْطِرٍس اور ص دونوں سے لکھا جاتا ہے۔اس کے معنے جابر کے ہیں۔نبی کا کام صرف تبلیغ کر دینا ہے۔جو نہ مانے۔ان پر نبی جبر نہیں کیا کرتے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء)