حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 379
۹۔۔آیت نمبر۸ سے نمبر۱۶ تک مومنوں کے خوش و خرّم اور متنّعم رہنے کا بیان ہے۔جن لوگوں کے شامِل حال خداوند کریم کا فضل ہوتا ہے۔ان کے لئے ضرر کے سامان بھی ضرررساں نہیں ہوتے۔ہمارے ملک میں بڑے بڑے شدید قحط پڑے مگر جو فاتح قومیں تھیں۔قحط میں بھی وہ متنّعم ہی رہیں۔ع مُنْعِم بکوہ و دست و بیابان غریب نیست ہر جاکہ رفت خیمہ رد و بارگاہ ساخت یہ ظاہر امر ہے کہ مکّہ میں یہ آیات آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم پر نازل ہو رہی ہیں۔اور اسی حالت میں اہلِ مکّہ کو بتایا جاتا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم جن کو آج تم ایک بے کس اور بے بس یقین کرتے ہو اور فی الواقعہ آج بھی وہ ایسا ہی ہے بھی۔کیونکہ کوئی جتّھہ اور جمیعت اس کے ساتھ نہیں اور تم سمجھتے ہو کہ بہت جلد اسے نا بود کر دو گے۔مگر یاد رکھو کہ ایک وقت آتا ہے کہ اس کی قوت اور شوکت کا دائرہ وسیع ہو گا اور تم سب اس کے زیر اقتدار ہو گے۔مگر یاد رکھو کہ ایک وقت آتا ہے کہ اس کی قوت اور شوکت کا دائرہ وسیع ہو گا اور تم سب اس کے زیرِ اقتدار ہو گے۔اس وقت مخالفین عجیب گھبراہٹ کی حالت میں ہوں گے اور وہ ذلیل ہوں گے۔ایک آگ میں وہ داخل کئے جائیں گے۔آگ سے مراد ناربالحرب بھی ہوتی ہے۔اور جہنم بھی۔پس دنیا کی جنگ میں ان کی ناکامی اور نامرادی نارِجہنم کے لئے دلیل ہے۔وہ اس مقابلہ میں ہا ر جائیں گے۔ان کو کھولتا ہوا پانی اور خاردار جھاڑیاں جن کو چھتّر تھوہر کہتے ہیں۔کھانے کو ملیں گی۔اس کا ثبوت دنیا میں یوں ملتا ہے کہ آتشک کے مریض کے لئے تھوہر کے دودھ میں گولیاں بنا کر دی جاتی ہیں اوپر سے گرم گرام پانی پلایا جاتا ہے۔غرض دنیا میں ایسا ہی ہوتا ہے۔اسی طرح پر آخرت میں بھی ہو گا۔(الفرقان:۶۶)۔آمین۔ان کے بالمقابل ایک گروہ خوش و خرم ہو گا اور اپنی تدابیر کے پورے ہونے اور مساعی میں خدا کے فضل سے کامیاب ہونے پر شاداں و فرحاں ہو گا۔ان کے لئے باعات عای مرتبہ ہوں گے۔جن میں لغویات کو دخل نہیں۔اس میں بہتے ہوئے چشمے ہوں گے اور تخت ہوں گے۔گوزے آبخورے قرینہ سے رکھے ہوں گے قالین اور تکیے لگے اور بچھے ہوئے۔غرض یہ تمام انعامات اس دنیا میں صحابہؓ کو ملے اور انہوں نے ایسے باغات حاصل کئے۔ان تمام امور پر پہلے مختلف جگہ ہم نے بحث کر دی ہے۔اب زیادہ تفصیل اور توضیح کی ضرورت نہیں۔المختصر مکّہ معظمہ میں منکرین کو عذاب کی اور موافقین و متبعین کو کامیابی اور جنّاتِ علیہ کی خوشخبری برنگ پیشگوئی دی جاتی ہے۔اور بتایا ہے کہ قیامت میں بھی ایسا ہی ہو گا۔دنیا میں اس طرح پر ہوا۔اور یہ قیامت کا ثبوت ٹھہرا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء)