حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 378
پر جم جاتی ہے۔۔لوگ یوں ہو جاتے ہیں کہ کھیتیوں زراعتوں کے پیچھے محنت کرتے تھک کر چُور ہو جاتے ہیں۔مگر پیداوار کچھ نہیں ہوتی۔محنت کرنا اور تھکنایہی پلّے پڑتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء) ۵،۶۔۔۔عَذَاب الجُوع کی آگ سے شکم تنور ہو جاتا ہے۔سرد پانی کہاں جو پینے کو ملے۔کہیں دور دراز جگہ سے یا عمیق در عمیق چاہ سے لایا جاوے گا۔اٰنِیَۃٍ لفظ أَنَی بمعنی تاخیر سے مشتق ہے۔دوسری جگہ فرمایا۔(الرحمان:۴۵) پہاڑوں میں جہاں سے چشمے نکلتے۔بعض چشموں کا پانی نہایت سخت گرم ہوتا ہے۔پیاسے کے لئے جس کی جان جاتی ہو۔یہی گرم پانی غنیمت سمجھا جاتا ہے۔تشنہ را دل نخواہد آبِ زلال (ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء) ۷۔۔ ایک قسم کی گھاس ہے۔جب تک پانی کی وجہ سے ہری رہتی ہے شبرقؔ کہلاتی ہے مگر جب سوکھ جاتی ہے تو اسی کو ضریع کہتے ہیں۔کانٹے دار اور بدبودار تلخ ہوتی ہے۔تصرّع اسی سے مستق ہے۔سورث المومنوں رکوع چہارم پارہ نمبر ۱۸ میں فرمایا ہے کہ قحط شدید میں صریع کو کھا کر بھی تصرّع نہیں کیا۔کَمَا قَالَ اﷲُ تَعَالیٰ (المومنوں:۷۷) اس آیت شریف کا نزول مفسرّین نے قحطِ شدید کے وقوع کے بارے ہی میں لکھا ہے جو پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے وقت میں ہوا تھا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء) ۸۔۔قحط کے مارے ہؤوں میں موٹاپا کہاں باقی رہتا ہے۔جسم ایک پنجرے کی طرح ڈراؤنی شکل کا ہو جاتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء)