حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 377
سُوْرَۃَ الْغَاشِیَۃِ مَکِّیَّۃٌ ۔ اکثر اہل تفاسیر نے قیامت کے حوادث مراد لئے ہیں۔یہ صحیح بات ہے کہ قیامت کے حوادث اپنے ہولناک ہونے کی وجہ سے غاشیات ہی ہوں گے۔کہ انسانوں کے ہوش و حواس عقل و فکر سب کچھ مارے جائیں گے۔مگر قرآن کریم کے اسلوب اور اس کے لٹریچر پر نظر کرنے سے پتہ لگتا ہے کہ جہاں کہیں قرآن شریف میں ھَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ کَذَا وَ کَذَا آیا ہے وہاں دنیوی عقوبات و اُخروی عقوبات کے ساتھ پیو ستہ بلکہ مقدّم رکھے گئے ہیں جیسا کہ ھَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ الْجُنُوْدِ فِرْعَوْنن وَ ثَمُوْدَ ( بروج:۱۸) ھَلْ اَتٰکَ حَدِیْثُ مُوْسٰی وغیرہ آیات سے ثابت ہے۔اسی طرح سے جیسا کہ انبیاء سابقین اور ان کی اُمم کے ساتھ جو معاملات ہوئے۔ان کے ہم رنگ پیغمبر صلی اﷲ علیہ وسلم کے وقت میں بھی کوئی عظیم الشان عقوبت آسمانی آنے والی تھی۔اس کو میں ذکر فرمایا۔عقوبتیں تو کفّار پر بہت سی آئیں۔مگر الفاظ قرآنی کا تبتّع کرنے سے معلوم ہوتا ہے۔کہ وہ حدیث الغاشیہ قحط شدید تھا۔جو سات سال تک بزمانہ نبویؐ واقع ہوا تھا۔ایک روایت میں آیا ہے کہ آپؐ نے اَللّٰھممَّ اَعِنِّیْ عَلَیْھِمْ بِسَبْعٍ کَسَبْعِ یُوْسُفَ کے الفاظ سے دُعا کی تھی۔اس دعا کا اثر یہ ہوا۔کہ وہ قحط شدید پڑا جس کا ذکر سورۃ دکان میں ان الفاظ سے ہے۔۔(الدخان:۱۱۔۱۲) اس سورۃ شریف کی پہلی آیت میں ہے اور سورۃ الدّخان میں یَغْشَی النَّاسَ ھٰذَا عَذَابٌ اَلِیْمٌ(ضمیمہ اخبار بدر قادیان یکم اگست ۱۹۱۲ء) ۳،۴۔۔۔جب قحط شدید ہوتا ہے تو فاقوں کی وجہ سے چہرے بگڑ جاتے ہیں۔ذلّت اور مسنکنت چہروں