حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 34 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 34

قَالَ اﷲُ تَعَالٰی۔وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّا وَحْیٌ یُّوْحٰی۔وَ قَالَ اﷲُ تَعَالٰی۔سَنُقْرِئُکَ فَلاَ تَنْسٰی۔وَ لَا شَکَّ اَنَّ مَنْ جَوّزَ عَلَی الرَّسُوْلِ تَعْظِیْمَ الْاَوْثَانِ فَقَدْکَفَرَ لَاِنَّ مِنَ الْمَعْلُوْمِ بِالضَّرُوْرِۃٌ اَنّ اَعْظَمَ سَعْیِہٖ کَانَ فِی نَفْیِ الْاَوْثَانِ قَالَ ابْنُ کَثِیْرٍ فِی تَفْسِیْرِہٖ اَنَّ جَمِیْعَ الرِّوَایَاتِ فِی ھٰذَا الْبَابِ اِمَّا مُرْسِلَۃٌ اَوْ مُنْقَطِعَۃٌ لَا تَقُوْمُ الْحُجَّۃَ بِشَیئٍ مِنْھَاثُمَّ قَالَ فَقَدْ عَرَفْنَاکَ اَنَّھَا جَمِیْعَھَا لَا تَقُوْمُ بِھَا الحُجَّۃُ لِاَنَّہٗ لَمْ یُرْوِھَا اَحَدٌ مِنْ اَھْلَ الْصِّحَۃِ وَلَا اَسْنَدَھَا ثِقَہٗ نَدٍ صَحِیْحٍ اَوْسَلِیْمٍ مُتَّصِلٍ (فتح البیان مختصرا) وَ قَالَ فِی الْکَبِیْرِ رُوِیَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ اِسْحَاقَ بْنِ خُزَیْمَۃَ اَنَّہٗ سُئِلَ عَنْ ھٰذِہِ القِصَّۃِ وَ قَالَ ھٰذَا وَ ضْعٌ مِنَ الزَّنَادِقَۃِ وَ صَنَّفَ فِیْہِ کِتَابًا۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۲۳۶۔۲۳۸) ذرا غور تو کرو۔انصاف سے کام لو۔عقل کو بیکار نہ رکھو۔اس عجیب و غریب تفرقہ پر نگاہ تو کرو۔محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کے سدرۃ المنتہٰی تک پہنچنے کا نتیجہ کیا ہے؟ اور تمہارے لات اور عزّٰی اور منات کی پرستش کا ثمرہ کیا ہے؟۔ایک وہ توحید کا واعظ۔سچے علوم کا معلّم۔قوم کو ذلّت اور ادبار سے عزّت و سلطنت عالمگیر پر پہنچانے والا۔دوسرے تم لوگ پتھروں سے حاجات کے مانگنے والے فسق و فجور میں قوم اور ملک کو تباہ کرنے والے اور وہم پرست ایسے کہ اپنے لئے تو اولادِ نزینہ کو پسند کریں۔اور باری تعالیٰ کی پاک ذات پر ہ کو زندیقوں نے وضع کیا ہے۔امام رازی کہتے ہیں۔یہ قصّہ جھوٹا بناوٹی ہے۔اس کا ماننا ناجائز ہے۔کیونکہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ نبی اپنے طرف سے کچھ نہیں بولتا۔یہ تو وہی کہتا ہے جو اس کے دل میں وحی کی جاتی ہے۔اور اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے عنقریب ہم تجھے قرآن پڑھاتے ہیں۔پھر تو اسے فراموش نہ کرے گا۔جو شخص رسول اﷲ صلی اﷲعلیہ وسلم کی نسبت یہ کہنا روا رکھے کہ آپ نے بُتوں کی تعظیم کی۔ایسا شخص بیشک کافر ہے۔اس لئے کہ یہ واضح ہو چکا ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کی بڑی بھاری کوشش بُتوں کا نابود کرنا تھی۔ابن کثیر اپنی تفسیر میں کہتے ہیں کہ اس باب میں جتنی روایتیں ہیں یا تو مرسلہ ہیں یا منقطعہ ہیں اور ایسی روایتیں حجت نہیں ہو کرتیں۔پھر امام صاحب فرماتے ہیں۔ہم تمہیں سمجھا چکے ہیں کہ یہ تمام روایتیںحجّت پکڑنے کے قابل نہیں ہیں۔کیونکہ اہلِ صحت میں سے کسی نے انہیں روایت نہیں کیا اور نہ کسی ثقہ نے سند صحیح یا سلیم متصل سے انہیں اسناد کیا۔اور امام صاحب تفسیرکبیر میں کہتے ہیں۔محمد بن اسحاق ابن خزیمہ سے روایت ہے کہ اس سے اس قصّہ کی بابت سوال کیا گیا۔اس نے جواب دیا کہ زندیقوں نے اسے گھڑا ہے اور اس نے اس بارہ میں ایک مستقل کتاب تصنیف کی ہے۔