حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 370
حجام کا پیشہ کیسا ادانیٰ سمجھا جاتا۔یہی لوگ مرہم پٹّی کرتے اور ہڈیاں بھی درست کر دیتے۔اسی پیشے کو علم کے ذریعے ترقی دیتے دیتے سرجنی تک نوبت پہنچ گئی ہے۔اور سرجن بڑی عزت سے دیکھا جاتا ہے۔مَیں نے تاجروں پر وہ وقت بھی دیکھا ہے۔کہ سر پر بوجھ اٹھائے وہ در بدر پھر رہے ہیں۔رات کسی مسجد میں کاٹتے ہیں۔مگر اب تو تجارت والوں کے علیحدہ جہاز چلتے ہی۔وہ حکومت بھی دیکھی ہے کہ دس روپے لینے ہیں اور ایک زمیندار سے دھینگا مُشتی ہو رہی ہے یا اب منی آرڈر کے ذریعہ مالیہ ادا کرتے ہیں۔سنسان ویران جنگوں کو آباد کر دیا گیا ہے۔یہ بھی علم ہی کی برکت ہے کہ اس سے ادنیٰ چیز اعلیٰ ہو جاتی ہے۔لیکن اﷲتعالیٰ نے اس جسم کے علاوہ کچھ اور بھی عطا کیا ہے۔یہ آنکھیں نہیں دیکھتیں۔جب تک اندر آنکھ نہ ہو۔زبان نہیں بولتی جب تک اندر زبان نہ ہو کان نہیں سنتے جب تک اندر کان نہ ہوں۔مگر یہ تو کافر کو بھی حاصل ہے۔اس کے علاوہ ایک اور آنکھ و زبان و کان بھی ہے جو مومن کو دئے جاتے ہیں۔یہ وہ آنکھ ہے۔جس سے انسان حق و باطل میں تمیز کر سکتا ہے۔حق و باطل کا شنوا ہو سکتا ہے۔حق و باطل کا اظہار کر سکتا ہے۔اگر انسان حق کا گویا وشنوا و بینا نہ ہو تو صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ کا فتوٰی لگتا ہے۔اﷲ جلشانہٗ جس کو آنکھ دیتا ہے۔وہ ایسی آنکھ ہوتی ہے۔کہ اس سے خدا کی رضا کی راہوں کو دیکھ لیتا ہے۔پھر ایک آنکھ اس سے بھی تیز ہے۔جس سے مومن اﷲ کی راہ پر علی وجہ البصیرت چلتے ہیں پھر اس سے بھی زیادہ تیز انکھ جو اولوالعزم رسولوں کو دی جاتی ہے۔ان حواس کے متعلق اﷲ اپنے پاک کلام میں وعظ کرتا ہے۔دیکھو آج ۱؎ لوگوں نے کچھ نہ کچھ اہتمام ضرور کیا ہے۔غسل کیا ہے۔لباس حتی المقدور عمدہ و نیا پہنا ہے۔خوشبو لگائی ہے۔پگڑی سنوار کر باندھی ہے۔یہ سب کچھ کیوں کیا۔صرف اس لئے ہم باہر بے عیب ہو کر نکلیں۔بہت سے گھر ایسے ہوں گے جہاں بیوی بچوں میں اسی لئے جھگڑا بھی پڑا ہو گا۔اور اس جھگڑے کی اصل بناء یہی ہے کہ بے عیب بن کر باہر نکلیں۔جس طرح فطرت کا یہ تقاض اہے۔ں اور انسان اسے بہر حال پورا کرتا ہے۔اسی طرح اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ مَیں تمہارا مربّی، میں تمہارا محسن ہوں جیسے تم نے اپنے جسم کو مطفٰی و مطہّر بے عیب بنا کر نکلنے کی کوشش کی ہے۔ویسے ہی تو اپنے ربّ کے نام کی بھی تسبیح کرتے ہوئے انکوا اور دنیا والوں پر اس کا