حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 369
۔فلاح کے لئے ظاہری و باطنی طہارت پراگندہ خیالات سے دلجمعی۔ذکر و نماز و بالآخر دین کو دنیا پر مقدّم کرنا۔یہ باتیں ضروری ہیں۔حضرت مسیح موعودؑ کا ایک الہام ہے۔’’مصفٰے قطرۂ باید کہ تا گوہر شود پیدا‘‘ ( آئینہ کمالاتِ اسلام صفحہ۵۵) ایک ڈاکٹر صاحب نے جو ایم اے ہیں۔اعتراض کیا کہ موتٰی تو کیڑے کے لعاب سے پیدا ہوتا ہے۔یہ حال کی تحقیقات کا مشاہدہ ہے مگر جب ان کو توجہ دلائی گئی کہ سیپ میں کیڑا کس چیز سے پیدا ہوتا ہے۔تو چونکہ ڈاکٹر تھے۔خاموش ہو گئے۔ایک اور الہام حضرت صاحب کا ہے۔جس کو تزکیۂ نفس اور ذکر سے تعلق ہے وہ یہ ہے۔اِنَّ ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عُرِضَ عَلٰی اَقْوَامٍ فَمَادَخَلَ فِیْھِمْ وَمَا دَخَلُوْا فِیْہِ اِلَّا قَوْمٌ مُّنْقَطِعُوْنَ۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍جولائی ۱۹۱۲ء) سَبِّحِ اسْمَ رَبِّکَ الْاَعْلٰی آدمی کو اﷲ تعالیٰ نے بنایا ہے۔اور اس کے لئے دو قسم کی چیزیں ضروری ہیں۔ایک جسم جو ہمیں نظر آتا ہے۔اس کے لئے ہوا کی ضرورت ہے۔کھانے ، پینے، پہننے، مکان کی ضرورت ہے۔کوئی اس کا یار و غمگسار ہو۔اس کی صرورت ہے۔دور دراز ملکوں کے دریاؤں کے اس پار جانے کی ضرورت ہے۔زمیندار کو کھیت کی ضرورت ہے۔کیا زمین انسان بنا سکتا ہے۔پھر ہل کے لئے لکڑیاں چاہیئں۔مضبوط درخت ہو جب جا کر ہل بنتے ہیں۔ہل کے لئے لوہے کی ضرورت ہے۔پھر اوزار بھی لوہے کے ہوتے ہیں۔لوہے کا بھی عجیب کارخانہ ہے۔لوہا کانوں سے آتا ہے۔جس کے لئے کتنے ہی مزدوروں کی ضرورت ہے۔پھر اور کئی قسم کی محنتوں اور مددوں کے بعد ہل بنتا ہے۔مگر یہ ہل بھی بیکار ہے جب تک جانور نہ ہوں۔پھر جانوروں کے لئے گھاس چارہ وغیرہ کی ضرورت ہے۔پھر اس ہل چلانے میں علم۔فہم اور عاقبت اندیشی کی ضرورت ہے۔چنانچہ انہی کی مدد سے چھوٹے چھوٹے جتنے پیشے بنتے ہیں۔وہ عالی شان بنتے ہیں۔مثلاً چکّی پیسنا ایک ذلیل کسب تھا۔علم کے ذریعہ ایک اعلیٰ پیشہ ہو گیا۔یہ جو بڑے بڑے مِلوں کے کارخانے والے ہیں۔دراصل چکّی پیسنے کا ہی کسب ہے اور کیا ہے۔ایسا ہی گاڑی چلانا۔کیا معمولی کسب تھا۔گاڑی چلانے والا ہندوستان میں لنگوٹ باندھے ہوتا تھا۔اب گاڑی چلانے والے کیسے عظیم الشان لوگ ہیں یہ بھی علم ہی کی برکت ہے۔