حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 33
مکذّب۔’’ مفصل حال اس کا معالمؔ جلالینؔ بیضاوی معتمد میں ذکر ہے‘‘ مُصَدّق نے ان تفاسیر کی طرف رجوع کیا مگر ان میں یہ لکھا پایا جو ناظرین کے عرضِ خدمت ہے۔بیضاویؔ نے اس واہی قصّہ کو کہ رسول کریم صلی ا علیہ وسلم نے یہ فقرہ تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی…الخ پڑھا تھا لکھ کر کہا ہے۔وَ ھُوَ مَرْدُوْدٌ عِنْدَ الْمُحَقِّقِیْنَ اور یہی بات معالم کے حاشیہ پر مرقوم ہے۔تفسیر فتہ البیان میں لکھا ہے تِلْکَ الْغَرَانِیْقُ الْعُلٰی…الخ کی نسبت یہ کہنا کہ رسول اﷲ نے سورہ نجم ؔمیں اس کو پڑھا صحیح نہیں۔چنانچہ وہ کہتے ہیں۔لَمْ یَصِحّ شَیْیئٌ مِنْ ھٰذَا وَ لَا ثَبَتَ بِوَجْہٍ مِنَ الْوُجُوْہِ وَ مَعَ عَدَمِ صِحَّتِہٖ بَلْ بُطْلَانِہٖ فَقَدْ دَفَعَہ، الْمُحَقِّقُوْنَ بِکِتَابِ اﷲِ سُبْحَانَہ، حَیْثُ قَالَ اﷲُ تعالٰے ( وَ لَوْ تَقَوَّلَ عَلَیْنَا بَعْضَ الْاَ قَاوِیْلِ لَاَ خَذْنَا مِنْہُ بِالْیَمِیْنَ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْہُ الْوَتِیْنَ) وَ قَوْلُہٗ تَعَالٰی ( وَ مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی) وَ قَوْلُہٗ تَعَالٰی( وَلَوْلَآ اَنْ ثَبَّتْنٰکَ لَقَدْکِدْتَّ تَدْکَنُ اِلَیْھِمْ) فَنَفَی الْمُقَارَبَۃَ لِلرُّکُوْنِ فَضْلاً عَنِ الدُّکُوْنِ‘‘ قَالَ الْبَزَّارُ۔ھٰذَا حَدِیْثٌ لَا نَعْلَمُہٗ یُروٰی عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِاسْنَادٍ مُتَّصِلٍ۔قَالَ الْبَیْھَقِیُّ۔ھٰذِہِ الْقِصَّۃُ غَیْرُ ثَابِتَۃٍ مِنْ جِھَۃِ النَّقْلِ ثُمَّ اَخَذَیَتَکَلَّمُ اَنَّ رُوَاۃَ ھٰذِہِ القِصَّۃِ مَطْعُوْنُوْنَ فِیْھِمْ۔قَالَ اِمَامُ الْأَئِمَّۃِ ابْنُ خُزَیْمَۃَ اِنَّ ھٰذِہِ الْقِصَّۃَ مِنْ وَضْعِ الزَّنَادِتَۃِ قَالَ الرَّازِیُّ ھٰذِہِ الْقِصَّۃُ بَاطِلَۃٌ مَوْضُوْعَۃٌ لَاَیُجْوزُ الْقَوْلُ بِھَا۔ترجمہ:۔اس قسم کی کوئی بات ہی کسی وجہ سے ثابت اور صحیح نہیں۔اگرچہ خود ہی اس کی عدم صحت اور اس کا بطلان ظاہر ہے مگر محققین کہتے ہیں کہ اﷲ تعالیٰ کی کتاب ہی تو اسے ردّ کر رہی ہے چنانچہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔اگر یہ (نبی) ہماری نسبت کوئی جھوٹی بات لگاتا تو ہم اس کا داہنا ہاتھ پکڑتے۔پھر ہم اس کی رگِ حیات کو کاٹ ڈالتے اور اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے۔یہ نبی اپنی طرف سے نہیں بولتا اور اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے اگر ہم تجھ کو مضبوط نہ رکھتے تو تو ان کی جانب قریب تھا کہ مائل ہو جاتا۔اب یہ آیت مقاربت میلان کی نفی کرتی ہے چہ جائیکہ آنجناب کا میلان ان کی جانب ہوتا۔بَزَّار کہتے ہیں۔ہم نہیں جانتے کہ کسی نے اس حدیث کو متصل اسناد سے نبی صلی اﷲ علیہ وسلم سے روایت کیا ہو۔بیہقی کہتے ہیں۔یہ قصّہ نقل کے قانون کے لحاظ سے ثابت نہیں ہو۔پھر بیہقی نے یہ کلام کیا ہے کہ اس قصّہ کے راویو ںمیں طعن کیا گیا ہے۔امام الائمۃ ابن خزیمہ کہتے ہیں کہ اس قصّہ