حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 365
سُوْرَۃَ الْاَعْلٰی مَکِّیَّۃٌ ۲۔۔: پاکی بیان کر۔شرک وغیرہ کے عیوب سے اس کی تنزِیْہ کر۔آیۃ شریف میں اﷲ تعالی کی تین صفات کا ذکر ہے۔سبّوحیت۔ربوبیت۔علوّشان۔اس کے ماتحت پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے لئے تین پیشگوئیاں تھیں۔جو بڑی صفائی سے پوری ہوئیں۔آپؐ جنون، افتراء وغیرہ عیوب سے پاک تسلیم کئے گئے۔آپ کی ربوبیت مکّی زندگی کی ادنیٰ حالت سے یوماً فیوماً بڑھتی گئی اور اعلیٰ ترین مقام پر یہاں تک پہنچائی گئی کہ (نصر:۳) اور( المائدۃ:۴) کی آواز آپ نے سن لی۔روئے سُخن پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی طرف ہے۔مگر مفہوم کے اعتبار سے ہر صادق راست باز کے لئے عام مخاطبت ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍جولائی ۱۹۱۲ء) ۳،۴۔۔۔: تسویہ۔تقدیر۔اور ہدایت ان چار باتوں کو علی الترتیب علّت اور معلول کے سلسلہ میں بیان فرما کر حصولِ ترقی کے لئے راہ سمجھائی ہے۔روئے سُخن صحابہ رضی اﷲ تعالیٰ کی طرف ہے۔اور مفہوم کے اعتبار سے ہر ترقی کے خواہاں کے لئے اس میں ہدایت ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍جولائی ۱۹۱۲ء) آیت میں آریہ کا ردّ ہے جو خلقِ عالم کا منکر ہے اور سمجھتا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نے کچھ بھی پیدا نہیں کیا۔اس مضمون کو بلفظ دیگر قرآن شریف میں یوں ادا فرمایا ہے۔(طٰہٰ:۵۱) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍جولائی ۱۹۱۲ء)