حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 364
ای اُتْرُکْہم وَ دعْہٗ (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍ جولائی ۱۹۱۲ء) جب آنحضرتؐ اور ان کے اصحابؓ قلّت تعداد اور بے سروسامانی کے باعث مکّے سے نکالے گئے تو ان کے ہادی سے قرآن نے پیشینگوئی کے طور پر فرمایا: ان کافروں کو کچھ مدّت فرصت دے۔اور اپنے آپ کو چونکہ موسٰیؑ کے مثیل کہا تھا اس لئے آپؐ نے دل بھر کے موسٰیؑ کے اتباع کا حال سنایا (الاعراف:۱۳۸) اور ہم نے انہی لوگوں کو جنہیں وہ ضعیف سمجھتے تھے زمین ( مکّہ) کے مشرقوں اور مغربوں کا وارث بنایا۔اور صاف صاف تاکیدی الفاظ سے مکّے میں یہ آیت پڑھ پڑھ کر سنائی۔(قصص:۸۶) بے شک وہ جس نے تجھے قرآن کا پابند بنایا یقینا تجھے اصلی وطن ۰ مکّہ) میں پھر لے جائے گا۔یہ پیشینگوئیاں صاف صاف پوری ہو گئیں کہ تھوڑے عرصے میں کل سر زمینِ مکّہ پر اہلِ اسلام کا تسلّط ہو گیا۔(فصل الخطاب حصّہ دوم صفحہ ۹۶،۹۷)