حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 363 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 363

۱۳۔۔صَدْعِ کے معنے پھٹنے کے ہیں۔قَالَ اﷲُ تَعَالٰی (الروم: ۴۴) اَیْ یَتَفَرَّقُوْنَ۔صَدْعِ کے لفظ سے صرف اسی قدر توجہ دلانا مقصود ہے کہ زمین کے پھٹنے سے کھیتیں اور درخت پیدا ہوتے ہیں۔بلکہ آسمانی بارش سے جس طرح زمین سر سبز ہوتی ہے۔اسی طرح پیغمبر کے انے سے اور وحی آسمانی سے اہلِ زمین برگ و بار لاتے ہیں۔حضرت صاحب فرماتے ہیں۔(براہین احمدیہ) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍ جولائی ۱۹۱۲ء) ۱۴۔۔اِنَّہٗکا مرجع قرآن شریف ہے یا آسمانی بارس کے ذریعہ زمینی سرسبزی۔دونوں ہی صحیح ہو سکتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۴؍جولائی ۱۹۱۲ء) ۱۶۔۔کفّارِ مکّہ جس وقت اُس بنی نوع انسانی کے سچّے خیر خواہ رؤوف و رحیم ہادی محمد مصطفٰی صلی اﷲ علیہ وسلم کی ایذارسانی کی تدابیر و فکر میں لگے ہوئے تھی۔قرآن کہتا ہے اِنَّھُمْ یَکِیْدُوْنَ کَیْدًا وہ خفیہ داؤں بچھا رہے ہیں اور مَیں ان کے داؤں کو باطل کرنے کے درپے ہوں۔(فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۱۳۸) ۱۸۔۔امھال کے معنے مہلت دینے۔ڈھیل دینے کے ہیں۔ رَود کی تصغیر ہے۔امر کے معنے میں آیا کرتا ہے۔جیسے نحوی اسم فاعل بمعنے امر سے تعبیر کرتے ہیں۔جیسے رُوَیْدَ زَیْدًا