حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 361 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 361

جاؤ۔عین بین یعنی بیچوں بیچ میں تم کو وہ پمپ یا فوارہ نطر آویگا۔جس میں سے وہ اُچھلتا پانی نکلتا ہے جو انسان کی پیدائش کا منبع یا مبدأ ہے۔غور کرو، سوچو، ایمان اور انصاف سے کام لو۔کیا مقصود تھا۔کیا مطلب تھا۔کس طرز پر ادا کیا۔اس سے بڑھ کر فصیح اور پاک کلام کوئی دنیا میں ہے۔علمِ ادب اور عربی سے آگاہی حاصل کرو۔فصحائے عرب عضوِ تناسل کا نام جب بتقاصائے وقت لازم ہو۔ایسے ہی نہج سے لیا کرتے ہیں۔چنانچہ افصح العرب و العجم ایک حدیث میں فرماتے ہیں مَنْ یَضْمِنُ لِیْ مَابَیْنَ لِحْیَیْہِ وَمَا بَیْنَ رِجْلَیْہِ فَاَضْمَنُ لَہُ الْجَنَّۃَ یعنی جو شخص مجھے ضمانت دے اس چیز کی جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان ہے یعنی زبان اور اس چیز کی جو اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے (……) میں اس کے واسطے جنت کا ضامن ہوتا ہوں۔یعنی جو شخص اپنی زبان اور شرمگاہ کو فواحش اور ممکنات سے روکے۔میں اُسے جنت دلاؤں گا اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ عَلٰی ذٰلِک اِنْ ھُوَ اِلَّا مَآ اَلْھَمْنِیْ بِہٖ رَبِّیْ (فصل الخطاب حصّہ اوّل صفحہ ۱۳۲۔۱۳۵) خُلِقَ مِنْ مَّآئٍ دَافِقٍ: دافق۔سیّال پانی۔یکے بعد دیگرے متواتر گرنے والے قطرے۔دافوق کے معنوں میں ہے۔عرب کی بولی میں فاعل مفعول کے معنوں میں کثرت سے بولا جاتا ہے۔جیسے سِرٌّ کَاتِمٌ اَیْ مَکْتُوْمٌ۔وَ فِیْ قَوْلِہٖ۔فِیْ عِیْشَۃٍ رَّاضِیَۃٍ (حاقّہ:۲۲) اَیْ مَرْضِیَّۃٍ حضرت صاحب کی ایک نظم میں دفقؔ کا لفظ اس طرح آیا ہے ع ہر کہ بر دفقِ حکم مشغول است برسرب اُجرت است و مقبول است (براہین احمدیہ) دفق ؔکے معنے اس شعر میں حکم کے ساتھ ہی کودنے، پھاند نے فورًا چلے جانے کے ہیں۔قرآن شریف کی ماسبق آیات کا ربط آیات ملحق سے یہ ہے کہ کفّار جنہوں نے پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے قتل اور ایذاء اور مقابلہ کی ٹھان رکھی تھی۔ان کو توجّہ دلائی اس طرف کہ غرور تکبّر نبی کے مقابلہ میں چھوڑ دیں۔اور اپنی پیدائش کو سوچیں کہ کس حقیر اور ناچیز قطرۂ آب سے ہوئی ہے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍جون ۱۹۱۲ء)