حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 32 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 32

باری تعالیٰ نے ثابت فرمایا ہے۔تفصیل اس اجمال کی یہ ہے۔عرب ایک ایسا جزیرہ نما تھا جس میں علی العموم پانی کی قلّت تھی اور اس کے ملک حجاز میں بخصوص سڑکوں اور میلوںکے نشانات۔اس کے راہوں میں ہرگز نہ تھے۔اس لئے عرب لوگ غالباً رات کو سفر کرتے تھے۔اور ثُریّا نام النجم سے سمت کو قائم کر لیتے تھے۔جس طرح آج جہازی مسافر قطب نما سے سمت کو قائم کر لیتے ہیں۔اندھیری راتوں میں وہ النجم گو بدرقہ کا کام دیتا تھا۔قرآن کریم نے جہاں النجم کے فائدے بیان کئے ہیں۔وہاں یہ بھی فرمایا۔(نحل:۱۸)اور یہ بھی بالکل ظاہر کہ النجم اگر سمت الرٔاس پر واقع ہو تو اس سے مسافروں کو راستہ کا پتہ نہیں لگ سکتا۔اس النّجم کا مشرق یا مغرب میں ہونا سفر والوں کے لئے ضروری ہے۔عربی زبان میں ھَوٰی چڑھنے اور ڈھلنے دونوں کے معنے دیتا ہے۔اس رکوع کی پہلی آیت کے معنے یہ ہوئے۔قسم ہے النجم (ثرّیا) کی جبکہ وہ مشرق یا مغرب کی طرف ہو۔باری تعالیٰ رات کے اندھیروں میں جنگلوں اور راستوں کے چلنے والوں کو فرماتا ہے۔لوگو!تمہارے لئے تم کو منزلِ مقصود تک جانے کے واسطے اور جسمانی سمتوں کے سمجھنے کی خاطر ہم نے النجم کو تمہارے کام میں لگایا۔تو کیا جسمانی ضرورتوں سے بڑھ کر تمہاری ضرورت کے واسطے اور روحانی منزلِ مقصود تک پہنچ جانے کے واسطے تمہارے لئے کوئی ایسا مصلح اور کوئی ایسا ریفامر سلیمۃ الفطرت سچا ملہم نہ ہو گا جو تو کو تمہارے روحانی اندھیروں اور اندرونی ظلمتوں کے وقت راہنمائی کرے۔فانی اور چند روزہ تکلیف جسمانی راہوں کے نہ سمجھنے میں جب تمہارے گردوپیش کے نشانات تم کو راہنمائی نہیں کرتے تو ہمارے روشن اور بلند ستاروں سے ضرور تمہاری جہالتوں۔تمہاری نادانیوں۔تمہاری بدرسومات اور عادات اور ہرص اور ھَوَیٰ اور بے جا خود پسندی اور ناجئز آزادی کی اندھیری رات آ جاتی ہے اور اس وقت تم ابدی نجات کی منزل تک پہنچنے سے حیران و سرگرداں ہو جاؤ تو کیا ہماری رحمتِ خاص اور فضلِ عام سے کوئی روشنی بخش اور راہ نما سیارہ نہ ہو گا۔(تصدیق براہین احمدیہ صفحہ ۱۸۴،۱۹۲،۲۰۰) تکذیب براہین احمدیہ کے مصنّف نے سورۃ نجم کے حوالہ سے یہ لغو فقرہ ’’تِلْکَ الْغَرانِیْقُ الْعُلٰی وَ اِنَّ شَفَاعَتَھُنَّ لَتُرْتَجیٰ‘‘اعتراض کرنے کو لکھا۔اس کے جواب میں آپ نے تحریر فرمایا۔’’اسلام کے مختلف فرقے دنیا میں موجود ہیں۔سب کے پاس قرآن ہے۔مگر تعجب ہے کہ کسی میں یہ موجود نہیں اور ہو کیسے؟ قرآن کریم کی شان اس سے اعلیٰ وارفع ہے کہ اس مجموعہ توحید میں ایسا مشرکانہ مضمون ہو۔اب حقیقت میں قرآن پر کوئی اعتراض نہ رہا۔‘‘