حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 355
یومِ موعود میں دس بارہ قول بیان ہوئے ہیں۔اس توجیہہ سے جو اوپر بیان ہوئی۔سارے ہی قول صحیح ہو جاتے ہیں۔علیٰ ھٰذاالقیاس شاہد و مشہود بھی۔یومِ موعود کی نسبت کہا گیا ہے۔کہ بدرؔ کا دن۔فتح مکّہ کا دن۔جمعہ کا دن سارے ہی دن ٹھیک اور درست ہیں۔اسی طور پر شاہد و مشہود یعنی عرفہ کا دن لِیَشْھندُوْا مَنَافِعَ لَھُمْ ( الحہ:۲۹) قیامت کا دن ذٰلِکَ یَوْمٌ مَجْمُوْعٌ لَّہُ النَّاسُ وَ ذٰلِکَ یَوْمٌ مَّشْھُوْدٌ ( ہود:۱۰۴) کِرَامًا کَاتِبِیْنَ(الانفطار: ۱۲) اور مخلوق۔پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہ وسلم اور آپؐ کی اُمّت۔تمامی انبیاءؐ اور ان کی اُمّتیں۔کل فرشتہ اور مخلوق۔جَآئَ تْ کُلُّ نَفْسٍ مَّعَھَا شَآئِقٌ وّن شَھِیْدٌ (قٓ: ۲۲) حتٰی کہ کَفٰی بِاﷲِ شَھِیْدًا ( نساء:۸۰) سے ذاتِ باری تعالیٰ اور تمامی مخلوق سالم بن عبداﷲ نے مراد لیا ہے۔غرض کہ یہ تین آیتیں پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی اور آپ کے نومسلم اور مظلوم اصحاب کی تسلّی و تشفی کے لئے نازل فرمائیں۔جن میں اﷲ تعالیٰ کی سطوت اور جبروت اور ملکوتی اقتدار کا بیان ہے۔جو کفّار سے انتقام کے لئے کافی و وافی ہیں۔اس کے بعد نظیرًا اصحاب اُخدود کے واقعہ کو تین ہی آیتوں میں بالمقابل فرمایا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۲۷؍ جون ۱۹۱۲ء) ۶ تا ۸۔۔۔ ۔زمینی حکومت کے ذریعہ سے آگ کی خندقوں کا تیار کرنا۔اور ان پر تماشہ بینی کے لئے کُرسییں بچھا کر بیٹھنا اور بالآخر اس وقت کے مؤمنین کو (جو غالبًا عیسائی موحّد تھے) امن خندقوں میں جھونکنا یہ ایک ایسا نظارہ صحابہ رصی اﷲ عنہم کے سامنے پیش کیا تھا کہ جس سے ان کی اپنی تکلیفوں کا اندازہ مقابلۃً ان کو معلوم ہو گیا۔حدیث شریف میں آیا ہے کہ پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم جب ان آیات کو پڑھتے تو فرماتے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُبِکَ مِنْ جَھْدِ الْبَلَآئِ وَ دَرْکِ الشِّقَآئِ وَسُوْئِ الْقَضَآئِ وَ شَمَاتَثِ الْاَعْدَائِ۔