حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 349 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 349

کے ساتھ کوشش کرنے کے ہیں۔حدیث شریف میں ہے کہ لَیْسُوْا عِبَادُ اﷲِ بِمُتَنَعِّمِیْنَ خدا کے بندے تن آسان و تن پرور نہیں ہوتے۔اور خاص کر خدا کی رضا کو پا لینا اور اس سے ملاقات کرنا دشوار گزار گھاٹیوںسے گزرے بغیر ممکن نہیں۔اِنَّ سِلْعَۃَ اﷲِ لَغَالٍ۔خدا کا سودا مہنگا ہے۔اس زمانہ کی دشواریوں کا ذکر مختصریا حدیث شریف میں ابن ماجہ باب شدث الزمان میں یوں فرمایا ہے۔لَایَزْدَادُ الْاَمْرُ اِلَّا شِدَّۃً وَلَا الدُّنْیَا اِلَّا اِدْبَارًا۔وَلَا النَّاسُ اِلَّ شُحّنا وَ لَا الْمَھْدِیُّ اِلَّا عِیْسَی بْنُ مَرْیَمِ۔(ابنِ ماجہ کتاب الفتین باب شدّۃ الزمان) ۸۔۔یُمن کے معنے دایاں ہاتھ۔طاقت۔جناب الہٰی کی پروانگی دعاؤں کے قبول ہونے کے راست بازی۔اکلِ حلال۔قوتِ بازو کی کمائی۔جناب الہٰی کی مرضیات کی روشنی۔یہ ضروری امور ہیں۔اگر یہ باتیں نہ ہوں۔تو حدیث شریف میںاَنّٰی یُسْتَجَابُ لَہٗ آیا ہے۔کیونکر اس کی دعا قبول ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۲؍ جون ۱۹۱۲ء) ۹۔۔حساب یسیر صرف بندہ کے لئے اس کے اعمال کا اس کے سامنے پیش کر دینا ہے۔اور اس کی خطاؤں سے چشم پوشی و درگزر کرنا ہے۔امام احمد حضرت عائشہؓ سے روایت کرتے ہیں کہ پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے یوں دعا فرمائی اَللّٰھُمَّ حَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْرًا۔پوچھا کہ حساب یسیر کیا ہے فرمایا صرف نامۂ اعمال کا پیس کرنا اور در گزر فرمانا ہے۔اور فرمایا۔مَنْ نُوقِشْ فِی الْحِسَابِ عُذِّبَ جس کے حساب میں کُرید کی گئی۔وہ مُعَذّبْ ہو گا۔ابوھریرہؓ سے مروی ہے۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم نے فرمایا۔تین خصلتیں ہیں۔کہ ان سے حسابِ یسیر ہو گا۔ایک یہ کہ جو اسے محروم رکھے اور نہ دے۔اسے دیا کرے۔دوسرے یہ کہ جو ظلم کرے اس کو معاف کرے۔تیسرے جو اس سے قطع رحمی کرے وہ اس سے وصل کرے(اِنَّ ذٰلِکَ مِنْ عَزْمِ الْاُمُوْر) (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۲؍ جون ۱۹۱۲ء) ۱۴۔۔اس آیت کے بالمقابل دوسری جگہ مومنوں کی صفت یوں بیان فرمائی ہے۔