حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 348
آسمان بارونشاں اَلْوَقْت میگوئد زمیں (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۲؍ جون ۱۹۱۲ء) ۳۔۔اَذبنَتْ: اذن سے مستق ہے۔جس کے معنے کسی بات کے سننے کے لئے کان لگائے رکھنا۔حکم کی تعمیل کرنا ہے۔حُقَّتْ کے معنے یہ ہیں کہ آسمان کا حق ہے کہ وہ ایسا کرے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۲؍ جون ۱۹۱۲ء) ۴،۵۔۔۔آسمان کا پھٹنا۔زمین کا کشادہ ہونا اور اپنے مافیھا کو اپنے اندر سے اُگل دینا۔ان واقعات کو قرآن کریم میں بلفظِ دیگر یوں فرمایا ہے۔ (الانبیاء:۳۱) یعنی زمینی اور آسمانی برکتیں بند تھیں پیغمبر صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کے ظہور کے ساتھ ہی زمینی ا ور آسمانی برکتوں میں ترقیات ہونے لگیں۔آپؐ کے عہدِ مبارک میں ان دونوں کا رتق ٹوٹا اور زمینی و آسمانی ترقیات کا سمندر بہہ تکلا۔زمینی علوم و فنون جس قدر ترقی کر گئے اور کر رہے ہیں وہ محتاجِ بیان نہیں ہیں۔جس طرح آسمان کا اثر زمینی اشیاء قبول کر رہی ہیں۔اسی طرح انسان بھی ذوجہتین ہے۔جیسا کہ آگے فرمایا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۲؍ جون ۱۹۱۲ء) ۷۔۔انسان کے معنے خدا سے بھی اُنس رکھنے والا۔اور اہل و عیال بیوی بچوں سے بھی اُنس رکھنے والا دو طرف کے تعلقات کا لازمی نتیجہ یہ ہو کہ انسان کادح ہو۔کدح کے معنے کسی چیز میں نہایت مشقّت