حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 347
سُوْرَۃَ الْاِنْشِقَاقِ مَکِّیَّۃٌ ۲۔۔آسمان میں جس قدر اجرامِ فلکی ہیں۔وہ سب سماء کے لفظ میں داخل ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰث والسلام نے انشقاق و انفطار و سماء پر جو کچھ تحریر فرمایا ہے۔وہ مختصراً یہ ہے۔کہ سماء سے مراد کُلَّ مَا فِی السَّمَآء ہے۔لطیف چیزیں بہ نسبت کثیف کے سریع الخرق ہوتی ہیں۔خواہ آسمان لطیف ہو یا کثیف۔الہٰی کلام کا مدّعا یہ ہے کہ اس علامِ کَون کے بعد فساد بھی لازم پڑا ہوا ہے۔ہر ایک جو بنایا گیا ہے۔توڑا جائے گا۔قرآن کریم کے بہت سے مقامات سے ثابت ہوتا ہے کہ انشقاق اور انفطار کے لفظ جو آسمانوں کی نسبت وارد ہے۔اُن سے ایسے معنے مراد نہیں۔جو کسی جسم صلیب یا کثیف کے حق میں مراد لئے جاتے ہیں۔جیسا کہ ایک دوسرے مقام پر اﷲ جل شانہ،فرماتا ہے:(زمر:۶۸) اگر شق السّمٰوٰت سے درحقیقت پھاڑنا ہی مراد لی جاوے۔تو مَطْوِیّات کا لفظ اس سے مغائر اور منافی پڑے گا۔دوسری جگہ فرمایا ہے: (الانبیاء:۱۰۵) یعنی ہم آسمانوں اور زمین کو ایسا لپیٹ لیں گے۔جیسے ایک خط متفرق مضامین کو اپنے اندر لپیٹ لیتا ہے۔اور جس طرز سے ہم نے اس عالَم کو وجود کی طرف حرکت دی تھی۔انہیں قدموں پر پھر یہ عالَم عدم کی طرف لوٹا یا جائے گا۔اور جیسا کہ اب اسباب طاہر اور مسبّب پوشیدہ ہے۔اُس وقت مُسَبِّب ظاہر اور اسباب زاویہ عدم میں چُھپ جائیں گے اور ہر ایک چیز اس کی طرف رجوع کر کے تجلّیاتِقہریہ میں مخفی ہو جائے گی اور ہر ایک چیز اپنے مکان اور مرکز کو چھوڑ دیگی اور تجلّیات الہٰیہ اس کی جگہ لے لیگی۔یہی سمٰوٰت کا انشقاق انفطار اور مطوّیات ہونا ہے۔