حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 343
: سجن سے مشتق ہے۔خواہ یہ سجن کہیں ہو۔اﷲ تعالیٰ نے جو پیشگوئی مکّی سورۃ میں بے کسی اور بے سروسامانی کی حالت میں کی تھی وہ صحابہ رضی اﷲ عنہم کی فتوحات اور کفّار کے داروگیر سے پوری ہو گئی۔اور اس سجن نے آخرت کے عذاب کو بھی ثابت کر دیا۔سِجِّیْن سے مراد قیدیوں کا رجسٹر اور علیّین سے مراد ابرار کا رجسٹر۔یہ معنے بھی عمدہ ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۳؍ جون ۱۹۱۲ء) ۱۱۔۔جیسا مطفّفین کے ساتھ وَیْلٌ کا لفظ تھا۔یہاں مُکَذِّبِیْنَ کے ساتھ بھی وَیْل کا لفظ ہے۔معلوم ہوا کہ کذب کسی صادق کا برا مطفِّف ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۳؍ جون ۱۹۱۲ء) ۱۵۔۔یہاں لفظ بَلْ کے بعد سکتہ ہے۔اس لئے کہ انسان یہ سوچے کہ اﷲ تعالیٰ نے جو مَّاکَانُوْا یَکْسِبُوْنَ فرما کر صادق راست باز کے نہ پہچاننے کی وجہ پچھلی شامتِ اعمال قرار دی ہے۔وہ میرے کون سے عمل کی شامت ہے۔دوسری جگہ قرآن شریف میں اسی بات کو یوں ادا فرمایا ہے۔وَ اﷲ ُ اَرْکَسَھممْ بِمَاکَسَبُوْا ( النساء:۸۹) رکس کے معنے مت ماری جانا۔نیک کو بَد اور بَد کو نیک سمجھنا۔(الاعرف:۱۴۷) یہی رکس ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۳؍ جون ۱۹۱۲ء) ۱۹۔۔سِجِّیْنَ کے بالمقابل عِلِّیِّیْنَ ہے۔خواہ کہیں ہوں۔اس سے بحث نہیں۔دیکھنا تو یہ ہے کہ(المومن: ۵۲) کی پیشگوئی ہو کر علّو حاصل ہوا یا نہیں؟ یہ علّو کچھ جنگ پر ہی موقوف نہیں۔اَلْاِسْلَامُ یَعْلُوْ وَ لَا یُعْلٰی عَلَیْہِ اسلام بغیر جنگ کے بھی محبت و برہان سے اور کداوند کریم کی تائیدات سے سماوی نشانات و دیگر