حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 341
انسانوں میں صورت اور آواز ایک دوسرے سے نہیں ملتی۔یہ سب اس کی ربوبیت اور کرم ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۶؍ جون ۱۹۱۲ء) ۱۲،۱۳۔۔۔نامۂ اعمال کے لکھے جانے اور اس کے محفوظ رہنے پر جن لوگوں کو استبعادِ عقل معلوم ہوتا ہے وہ آجکل کے ایک نَو ایجاد آلہ گراموفون ہی کو دیکھ لیں کہ کس طرح ریکارڈ اس میں محفوظ رہتا ہے۔اور دوبارہ چکّر دینے سے کس طرح زرا ذرا سی حرکات یہاں تک کہ کھانسی اور تنفّس کی کمی زیادتی بھی اس سے ظاہر ہونے لگتی ہے۔آواز اآرہی ہے یہ فونوگراف سے ڈھونڈو خدا کو دل سے نہ لاف و گزاف سے (ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۳؍ جون ۱۹۱۲ء) ۱۶،۱۷۔۔۔دوزخیوں کے آکر میں فرمایا۔مگر جنتیوں کے ذکر میں (الحجر:۴۹) فرمایا۔ان دونوں آیتوں پر نظر کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ دوزخی دوزخ میں گو احقاب در احقاب مدّت رہیں گے اور گو وہ اپنی مدّت لبث میں زرا سی دیر کے لئے بھی دوزخ سے غائب نہ ہو سکیں۔مگر بالآخر وہ کے مصداق نہیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰث والسلام اکثر استدلال کے طور پر فرمایا کرتے تھے یَاْتِیْ علی جھنّم زمان لیس فِیْھا احدونسیم الصباتحرک ابوابھا۔غالبًا یہ عبارت تفسیر معالمؔ میں ہے۔عَطَآئً غَیْرن مَجْذُوْذٍ (ہود: ۱۰۹) اور فَعَّالٌ لِّمَایُرِیْدُ (البروج:۱۷) سے بھی یہی ثابت ہوتی ہے۔اور اس سورہ شریفہ کے ربّ کریم کے لفظ سے بھی یہی پتہ لگتا ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان۱۳؍ جون ۱۹۱۲ء)