حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 329
حدیث شریف میں ہے کہ اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تکبّر میری چادر ہے جو مجھ سے میری چادر چھینے گا۔میں اسے ذلیل کروں گا۔یہی قُتِلَ ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ۳۰۸) ۲۲۔۔قَبَرَہٗ: قبر میں رکھا اس کو اور اَقْبَرَہٗ قبر میں رکھوایا اس کو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ۳۰۸) ۲۸۔۔ہر قسم کے دانوں اور اناج کو کہتے ہیں۔لغت میں اس کے معنے پُر ہونے کے ہیں۔جب تک دانہ خام رہتا ہے اور مغز سے پوری طرح بھر نہیں جاتا۔حَبّ نہیں کہلاتا۔محبت پورے کمال کے ساتھ سوائے ذات محبوبِ حقیقی کے کسی سے جائز نہیں۔وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْآ اَشندُحُبًّالِلّٰہِ (البقرہ: ۱۶۶) اس کے بالمقابل سورۃ یوسف میں فرمایا ہے۔قَدْ شَغَفَھَاحُبًّا ( یوسف:۳۱) ہدیث شریف میں ہے حُبُّکَ لِشَیْیئٍ یُعْمِیْکَ وَ یُصِمُّ۔محبت کسی چیز کی انسان کو اندھا اور بہرا کر دیتی ہے۔حضرت صاحب کی ایک نظم دعوٰی سے پیشتر کی ہے۔جس کا مطلع یہ ہے۔اے محبّت عجب آثار نمایاں کر دی زخم و مرہم برہِ یار تو یکساں کر دی اس آیت میں حَبّ یعنی پُر مغز دانوں کا بیان ہے۔انسان کو بھی چاہیئے۔کہ اپنے آپ کو حبّ اور حَبّ پُرمغز بنائے ؎ پک کے گر جاتا ہے میوہ خاک پر خام ہے جب تک رہے افلاک پر (ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ۳۰۸) ۳۲۔۔فواکہ میووں کو کہتے ہیں۔جو بعد طعام کے تبدیل ذائقہ کے لئے کھائے جاتے ہیں۔اَبًّا کے