حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 328 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 328

ان چاروں آیتوں میں قرآن شریف کے کاتبوں۔قاریوں۔حافظوں کی عظمت خود قرآن شریف کی عظمت اور اسلام کے لئے آئندہ زمانہ میں شان و شوکت کی پیشگوئی بڑی شدّو مدّ سے بیان ہوئی ہے۔گو ان سے مراد ملائکۃ اﷲ بھی ہیں۔سَفَرَۃٍ مسافر کی جمع ہے۔جس طرح کَتَبَۃٌ کاتب کی جمع اور سَفَرَۃٌ سے لکھنے والے مراد ہیں سَفَرَکے معنے کسی چیز کو واضح کر کے بیان کرنے کے ہیں جیسا کہ اسی سورۃ سَفَرَۃٌ کے بیان میں آئے گا۔حضرت عائشہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے۔اَلْمَاھِرُ بِالْقُرْاٰنِ مَعَ السَّفَرَۃِ الکِرَامِ الْبَرَرَۃِ۔قرآن شریف کا ماہر سَفَرَۃِ الْکِرَامِ الْبَرَرَۃِ کے ساتھ ہو گا۔قرآن شریف صرف یاد کر لینا اَور بات ہے اور اس کا ماہر ہونا اور بات ہے۔لوگ اسلام کے تنزّل کے طرح طرح کے اسباب بیان کرتے ہیں۔قرآن شریف کے ماہرین کے لئے ان آیات میں کیا کیا وعدے دیئے گئے ہیں۔وہ غور فرماویں۔اور پھر اس کے ساتھ میں آیۃ کریمہ قَالن الرَّسُوْلُ یَارَبِّ اِنَّ قَوْمِیْ اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَھْجُوْرًا ( الفرقان:۳۱)بھی پڑھ لیں۔بَرَرَۃٍِ: بَارّٗ کی جمع بمعنے نیک کردار کے ہیں۔قرآن شریف کے مضامین۔معانی و مطالب کے موضّحین کے لئے سَفَرَۃٌ کے لفظ میں بڑی خوش خبری ہے کہ لوگ اﷲ تعالیٰ اور بندوں کے درمیان سفیر نیک کردار کے ساتھ دو سلطنتوں کے مقاصد و اغراض کو کیونکر بیان کرتے ہیں۔ہر واعظ اپنی اپنی جگہ وعظ کے وقت سوچ لے کہ وہ اس وقت کس کام کے کرنے کے لئے کھڑا ہے۔اگرچہ ان تفسیری نوٹوں میں مسلمانوں کے فرقوں میں سے کسی ایک یا دوسرے کو خطاب نہیں کیا گیا۔تاہم کہیں کہیں بعض عام غلط فہمیوں کی تردید ضرور کی گئی ہے۔ہمارے شیعہ بھائی جو صحابہ کرام رضوان اﷲ علہیم اجمعین کے مطاعن بیان کرنے میں بیباکی سے کام لیتے اور ان پر نادانی سے الزام لگاتے ہیں۔ان آیات پر غور کریں کہ خود خدا تعالیٰ نے ان کی تطہیر اور تکریم کی شہادت دیدی ہے کیونکہ فرمایا فِیّ صُحْفٍ فُّکَرَّمَۃٍ۔مَّرْفُوْعَۃٍ مُّطَھَّرَۃٍ بِاَیْدِیْ سَفَرَۃٍ۔کِرَامٍ بَرَرَۃٍ۔یعنی ان کا تبوں کے ہاتھ سے ہیں۔جو مکرم و مبرور ہیں۔اﷲ اکبر۔صحابہ کی شانِ بلند کو یہ آیت کیسی صفائی سے ظاہر کرتی ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۷،۳۰۸) ۱۸۔۔قُتِلَ صرف بددعا یا کو سنا نہیں ہے بلکہ ہر متکبّر کفرانِ نعمت کرنیوالے کے لئے پیشگوئی ہے۔