حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 327 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 327

۲۔۔۔ سے تَلَھّٰی تک دس آیتوں میں اس بات کو ارشاد فرمایا ہے کہ اﷲ تعالیٰ نکتہ نواز اور نکتہ گیر ہے۔اس کے حضور بہت احتیاط اور حذر چاہیئے۔نزدیکاں رابیش بودحیرانی۔آنہاراکہ قریب تراَْد خائف تراَنْد کا مضمون ہے۔۔تیوڑی چڑھایا اور منہ پھیر لیا۔چونکہ شانِ نزول ایک خاص واقعہ کا پتہ صحیح حدیثیں دے رہی ہیں۔اس لئے کفّار کی طرف سے منہ پھیر لینا اور ان کی طر ف سے تیوڑی چرھا کر ایک غریب کی طرف متوجّہ ہونا یہ معنے بالعکس واقعہ کے ہیں۔اس لئے جمع بین الضدّین صحیح نہیں معلوم ہوتا۔صحیح بات وہی ہے جو حدیثِ صحیح سے ثابت ہے اور نظمِ کلامِ الہٰی اس کا مؤیّد ہے۔بعض آدمی نیک بھی ہوتے ہیں۔مگر ان کے اندر ایک کبریائی ہوتی ہے جو بعد میں مشکل سے معلوم ہوتی ہے۔بہت احتیاط چاہیئے۔نبی کریم صلی اﷲ علیہ وسلم امراء مکّہ کو کچھ سمجھا رہے تھے۔اوپر سے ایک اندھا آ گیا۔اب وہ النازعات والی حالت نہ رہی یعنی توجہ ہت گئی۔کچھ اِدھر کچھ اُدھر۔ربّ کریم نے اندھے کی سفارش فرما دی کہ اس کی طرف توجّہ تام فرما لیجئے۔اس سورۃ میں بڑے بڑے تغیرّات کی خبر دی ہے۔پھر جیسا کہ قاعدہ ہے چھوٹی باتیں بیان کر کے بڑی بات بتاتا ہے۔قیامت کی خبر دی۔(تشحیذالاذہان جلد۸ نمبر۹ صفحہ ۴۸۷) ۷۔۔تم اُس کی طرف جُھکے ہوئے ہو۔اس کے پیچھے پڑے ہوئے ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۷) ۱۱۔۔تم اس کی طرف سے غافل ہو۔خیال کو ہٹائے ہوئے ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۷) ۱۴ تا ۱۷۔۔۔۔۔