حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 326
رنگ ہے اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اگر خدا تعالیٰ کی کتاب اور وحی پر ایمان نہ رکھتے تو پھر اس کی تلافی نہ فرماتے۔یہ ایک باریک بات ہے کہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کا اپنی رسالت پر خود ایمان لانا بھی ایک زبردست دلیل رسالتِ محمدیہ کے حق ہونے کی ہے۔پہر حال یہ واقعہ بیان کیا گیا ہے۔قرآن مجید چونکہ اپنے اندر مستقل صداقتیں رکھتا ہے۔اس لئے ان آیات سے جو سبق ہمیں ملتا ہے وہ یہ ہے۔اوّل۔دین میں اخلاص اور عملی رنگ کا پیدا ہونا کسی رنگ و نسب پر موقوف نہیں ہے۔اس لئے ایسے معاملات میں ایک مبلّغ اور واعظ کو کبھی یہ خصوصیت اختیار کرنی نہیں جاہیئے۔کہ وہ طبقہ امراء کی وجہ سے ضعفاء اور غرباء کو چھوڑ دے۔اور ان کی طرف توجہ نہ کرے۔بلکہ ضعفاء اور غرباء زیادہ حق رکھتے ہیں کہ اُن کی باتوں کی قدر کی جاوے اور انہیں محبت اور اخلاص سے دیکھا جاوے۔ان کی بات کو ہرگز ردّ کرنے کی کوشش نہ کی جاوے۔وہ نہایت نازک دل رکھنے والی قوم ہے۔اس وجہ سے اُن سے بے پرواہی نہیں کرنی چاہیئے کہ دِل کے حالات کا اﷲ ہی علیم ہے۔وہی خوب جانتا ہے۔کہ کون ہدایت پانے والا ہے اور کون نہیں۔دوسری بات ان آیات سے یہ معلوم ہوتی ہے۔کہ جو لوگ بے پرواہی کریں۔ان پر تبلیغ اور اتمامِ حجّت کافی ہے۔ان کے پیچھے پرنا ضروری نہیں ہے۔تیسری بات یہ ہے۔کہ نبی کا کام کسی کو ہدایت یاب کر دنیا نہیں ہے۔لوگ غلطی کرتے ہیں جو کسی مامورِ ربّانی سے ایسی مضحکہ خیز باتیں کرتے ہیں کہ آپ میری فطرت بدل دیں اور یہ کر دیں اور وہ کر دیں۔یہ خدائی فعل ہے اور اسی کو سزاوار ہے۔ایک اور بھی لطیف معنے ہیں اور وہ یہ کہ تیوڑی چڑھانے کا اثر ایک نابینا پر کیا ہو سکتا ہے۔پس مطلب یہ ہے کہ انحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے کفار ( جو توجہ نہیں کرتے تھے) کی تیوڑی چڑھائی اور نابینا سے ملتفت ہوئے۔اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ صداقت اور حق کا جویاں خواہ کیسا ہی غریب اور محتاج کیوں نہ ہو۔وہ زیادہ حقدار ہے کہ اس کی طرف توجہ کی جاوے۔بمقابلہ ایک ریاکار اور خدا سے دور دولتمند اور سرکش متموّل کے۔اس سورۃ میں وَمَا یُدْرِیْکَ کا خطاب عام ہے۔یعنی اے مخاطب تمہیں کیا معلوم ہے کہ وہ کیسا پاک دل اور پاکباز انسان ہے۔اس لئے اگر تو آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کے اس فعل کو بہ نظر استعجاب دیکھتا ہے کہ ایک قوم کے عمائد کی طرف سے توجہ پھیر کر ایک اندھے کی طرف مخاطب ہوئے۔یہ تیری خیالی تہذیب کے ماتحت قابلِ اعتراض ہے مگر اﷲ تعالیٰ دلوں کو جانتا ہے اور اس کے نزدیک قابلِ قدر وہی ہیں جو خدا سے ڈرتے اور تزکیئہ نفس کرتے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۶، ۳۰۷)