حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 325 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 325

سُوْرَۃَ عَبَسَ مَکِّیَّۃٌ  اس سورۃ کی ابتدائی آیتوں کے شانِ نزول کے متعلق ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔جس کا ذکر مَیں ابھی کروں گا۔اس سے پہلے اس امر کو یاد رکھنا چاہیئے کہ شانِ نزول سے ہمیشہ یہ مراد نہیں ہوتا کہ ان آیات کے نزول سے وہی امر مراد ہے جو شانِ نزول کے تحت میں بیان کیا جاتا ہے۔بلکہ اصل یہ ہے۔کہ وحی الہٰی کے نزول کے کچھ اسباب ہوتے ہیں۔ان میں سے اس واقعہ پر بھی وہ آیات چسپاں ہوتی ہیں ورنہ اگر کسی ایک واقعہ کو مخصوص کر لیں تو پھر قرآن مجید کی عظمت جو اس کے عام اور ابدی ہونے میں ہے کم ہو جاتی ہے۔غرض اس کی ابتدائی آیات کے متعلق کہا جاتا ہے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم ایک مجمع قریش میں تبلیغ فرما رہے تھے۔اور چونکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم اس امر پر بَدِل حریص تھے۔کہ یہ لوگ ہدایت پا جاویں۔جیسا کہ قرآن مجید میں ایک موقع پرفرمایا ہے۔لَعَلَّکَ بَاخِعٌ نَّفْسَکَ اَلَّا یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ (الشعراء:۴)یعنی کیا تو اپنے آپ کو معرضِ ہلاکت میں ڈال دے گا۔اس خیال اور فکر سے کہ یہ مومن ہو جائیں’’ آپ کے دل میں ازحد تڑپ تھی اس امر کی کہ یہ لوگ ہدایت پائیں۔اسی اثناء میں عبداﷲ بن امّ مکتوم جو نابینا تھے دوڑتے ہوئے آئے اور آپ سے امر دین میں کچھ دریافت کرنا چاہا چونکہ وہ نابینا تھے۔انہیں یہ بھی معلوم نہ تھا۔کہ یہاں کن لوگوں کو حضرتؐ خطاب کر رہے ہیں۔اور آداب الرسول کے موافق انہیں کیا طرز اختیار کرنا چاہیئے۔وفورِ شوق اور اخلاص سے انہوں نے آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم کو اپنی طرف متوجہ کرنا چاہا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلّم کو ابن امّ مکتوم کا یہ فعل پسند نہ آیا۔اور اس کے آثار آپ کے چہرہ پر ظاہر ہوئے۔اور کافروں کی طرف منہ پھیر کر ان سے باتیں کرنے لگے۔آپ کے اس فعل پر اﷲ تعالیٰ نے عتاب کیا۔صحیح روایت میں ہے کہ اس کے بعد آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے ابن امّ مکتوم کی بڑی دلداری کی اور اپنی چادر بچھا کر اسے بٹھایا۔یہ واقعہ آنحضرتؐ کی صداقت اور قرآن کریم کے کلام الہٰی ہونے کا زبردست ثبوت ہے۔اگر یہ کلامِ الہٰی نہ ہوتا اور آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم خدا تعالیٰ کے فرستادہ اور سچّے نبی نہ ہوتے۔تو یہ اس میں درج نہ ہوتا۔جو گویا عتاب کا