حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 324
اور نہ پہلا تشخص قائم رہتا ہے۔جو اُن کے مجوزّہ اور مقررہ انصاف کے صریہ خلاف ہے۔پھر مہا پر لے کے وقت جو خلق فنا ہوتی ہے۔ان کی جزا و سزا کو اگلی دنیا تک جو آٹھ ارب کا زمانہ ہے ٹکائے رکھنا۔کس اصول دیانت و انصاف پر مبنی ہے۔کیا مخلوق کا کام ہے کہ خالق کو مشورہ دے؟ غرض یہ سوال یا اعتراض بالکل فضول اور لغو ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۶) ۴۴۔۔اے پیغمبرؐ تم اس کا وقت بتانے کے کہاں بکھیڑے میں پڑے ہو۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ ہمیشہ لوگ قیامت کے تعیّنِ وقت کا سوال کیا کرتے تھے۔جب یہ آیت اور اِلٰی رَبِّکَ مُنْتَھٰھَا (آیت: ۴۵) نازل ہوئی۔تو لوگ سوال سے باز آگئے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۶) خ خ خ