حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 323
۳۹۔۔: ایک چیز کو دوسری چیز سے زیادہ پسند کیا۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ۳۰۶) ۴۱۔۔ھَوٰی: گری ہوئی نکمّی خواہش۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ۳۰۶) ۴۳۔۔مُرْسٰی: انتہائے سیر اور اس کا ٹھہراؤ۔کشتی جب چل کر ٹھہر جاتی ہے تو مرسٰے الفینۃ کہتے ہیں۔ایک سوال اور اس کا جواب: آریہ لوگ نادانی سے اعتراض کرتے ہیں ( کیونکہ انہیں حقائقِ معاد سے بالکل ناآشنائی ہے) کہ انسان کے جزاء دینے میں اس قدر دیر لگانا انصاف کے خلاف ہے۔چاہیئے کہ فورًا سزا ہو۔قیامت تک ہر شخص کو حوالات میں رکھنا اور پھر کسی کو کم کسی کو زیادہ دیر رکھنا سخت بے انصافی ہے۔اس اعتراض کے جواب میں اوّل تو یہ کہنا کافی ہے۔کہ اسلام کی حقیقت سے اگر وہ واقف ہوتے تو ایسا لغو اعتراض نہ کرتے۔یوم کا لفظ ہرآن پر بھی بولا جاتا ہے۔اور اعمال کی جزا و سزا اسی وقت سے شروع ہو جاتی ہے۔جب کوئی عمل حیطہ فعل میں آتا ہے۔علاوہ بریں یہ بھی فرمایا۔آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم نے مَنْ مَاتَ فَقَدْ قَامَتْ قِیَامَتُہٗ۔جو مر گیا اس کی قیامت قائم ہو گئی۔پھر ان سب باتوں کے علاوہ خود اسی سُورَت میں اس کا جواب موجود ہے۔کہ قبر کا زمانہ ایسا ہو گا کہ گویا پَہَر پھر ٹھہرے ہیں تو پھر توقفِ جزا یا حوالات کا اعتراص نہایت ہی لغو ہو جاتا ہے۔یہ اعتراض تو آریوں پر ہوتا ہے۔کہ کیوں اعمال کی جزاء کو دوسرے جنم تک ملتوی کیا جاتا ہے اور پھر ایسے دوسرے جنم میں جو بھوگ جو نی کہلاتا ہے۔پہلے جنم کے اعمال و افعال کا کچھ بھی شعور نہیں ہوتا