حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 322
فَقَصّٰھُنَّ ( حٰمٓ السجدۃ: ۱۲،۱۳) اختلاف کوئی نہیں ہے۔کیونکہ دُحُو سے مطلق بسط اور پھیلانا ہی مراد نہیں ہے۔بلکہ نباتات کا نکالنا اور چشموں وغیرہ کا جاری کرنا بھی دُحُو میں شامل ہے اور یہ بے شک بعد پیدائش آسمان کے ہوا ہے۔یعنی جو چیزیں خدائے تعالیٰ نے زمین میں مخفی رکھی تھیں وہ آسمان کی پیدائش کے بعد مَکْمَنِ قوۃ سے حَیِّزَِ فعل میں آئیں۔یہی زمین کا دَحُو ہے سورۃ فُصِّلَتْ کا سُمَّ تاخیر کے لئے نہیں بلکہ ثُمَّ اسْتَوٰی اِلَی السَّمَآء کے معنے فُصِّلُتْ سورۃ میں یہ ہیں کہ پس آسمانوں کی تسویہ کی طرف متوجّہ ہوا جو پہلے سے تھیں۔اس سورۃ نازعات میں بھی بَنٰھَا کہہ کر بناء آسمان یعنی تقدّم بنائے آسمان کو قرار دیا ہے۔سورۃ فُصِّلَتْ میں ثُمَّ ترتیب کے لئے نہیں ہے بلکہ وہاں صرف نعمتوں کا شمار مقصود ہے جیسا کہ تورات کی نسبت فرمایا۔ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسٰیَ الْکِفٰبَ ( انعام: ۱۵۵) اور یہاں اوّل بنائِ آسمان اور پھر دَحْوِاَرْض کا ذکر ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ ۳۰۵،۳۰۶) ۳۳۔۔: مضبوط بنایا ان کو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ۳۰۶) ۳۵۔۔: طَامَّۃ بڑی گھمسان۔گھوڑا چلنے اور دوڑنے میں اپنی ساری قوّت خرچ کر دے۔تو اس وقت طَمَّ الَْٰرَسُ طَمِیْمًا بولا کرتے ہیں۔۳۸۔۔طغیانی۔حد سے باہر ہو جانا۔ندی نالوں کا پانی جب حد سے باہر نکل پڑتا ہے۔تو طغیانی کہلاتا ہے۔جو بہت زیادہ پھیل جائے اور بڑی سرکشی کرے۔وہ طاغوت ہے۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان صفحہ۳۰۶)