حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 311 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 311

 کا لفظ ہے۔جس کے معنے تمہیں بتاتے ہیں۔اور دوسری آیت اسی مضمون کی یہ ہے  (انبیاء:۳۲) ان دونوں آیتوں میں  کا لفظ ہے۔جو جہالت کے سبب سے دشمنانِ اسلام کی سمجھ میں نہیں آیا۔سُنو۔لُغت عرب میں ہے۔مَادَنِی۔یَمِیْدُنِیْ۔اَطْعَمَنِیْ ( المفردات القرآن للراغب)اور مَیْد کے معنے ہلنا۔دیکھو۔مَادن یَمِیْدُ مَیْدًا و مَیْدَانًا مِنَ الْاَرْضَ ( قاموس اللغۃ)ان معنوں کے لحاظ سے جو منادَنِی۔یَمِیْدنِیْ کے کئے گئے ہیں۔اس آیت کے یہ معنے ہوئے۔کہ رکھے زمین میں پہاڑ اس لئے ہیں کہ کھانادیں تمہیں۔اور یہ ظاہر بات ہے کہ پہاڑوں کو اﷲ تعالیٰ نے اس لئے بنایا ہے کہ ان میں سے برفیں پگھلیں۔چشمے جاری ہوں۔ندیاں نکلیں۔پھر ان کے سبل پر اس سطہ سے جس میں ریگ ہوتی ہے۔پانی مصفا ہو کر کنویں میں آتا ہے۔پھر اس سے کھیت سرسبز ہوتے ہیں۔یہ بھی ایک علاوہ اس رحمت کے سلسلے کے ہے۔جو بارانِ رحمتِ الہٰیہ سے ہے۔جس کا ذکر اس کلمہ طیّبہ میں ہے۔(بقرہ:۲۳) اور دوسرے معنوں کے لحاظ سے آیت کے یہ معنے ہوئے کہ ہم نے زمین پر پہاڑ رکھے کہ چکر کھاتے ہیں۔ساتھ تمہارے۔یہ الہٰی طاقت کا مرکز ہے کہ اس نے ایک بڑے مستحکم مضبوط پہاڑوں کو بھی زمین کے ساتھ چکّر دے رکھا ہے اور نظامِ ارضی میں کوئی خلل نہیں آتا۔اب کوئی انصاف کرے کہ کن معانی پر اعتراض کی جگہ ہے۔ہم نے تصدیق براہین احمدیہ کی جلد دوم میں اس مضمون پر بسط سے کلام کیا تھا۔اس مسوّدے سے بھی یہاں مختصرًا کچھ نقص کرتے ہیں۔اور وہ یہ ہے۔مکذب بارہین احمدیہ کے اعتراص کا تیسرا حصّہ یہ ہے۔اہلِ اسلام کے نزدیک پہاڑ بمنزلہ میخوں کے زمین میں ٹھونکے گئے ہیں۔’’ یہ خام خیالی ہے‘‘ الجواب: خام خیالی کا دعوٰی کرنا اور ثبوت نہ دینا۔یہ بھی معترض کی خام خیالی ہے۔(لقمان:۱۱) اور آیت کریمہ وَالْجِبَالَ اَوْ تَادًا۔ایک نہایت سچی فلسفی ہے اور اس سچی فلسفی پر جدید علوم اور حال کے مشاہدات گواہی دیتے ہیں۔اور انہی مشاہدات سے بھی ہم گزشتہ دیرینہ حوادثات کا علم حاصل کر سکتے ہیں۔کہ اس زمین کا ثبات و قرار اضطرابات اور زلازل سے خالق السمٰوٰت والارض نے تکوینِ جبال سے تسکین دی ہے۔چنانچہ علم طبقات الارض میں تسلیم کیا گیا ہے کہ یہ زمین ابتداء میں