حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 310
۷۔۔جَعَلَ۔پہلے پہل پیدا کیا۔مھاد بمعنی مَمْھُوْد اسم مصدر۔اسم مفعول معنے میں ہے۔دوسری جگہ فرمایا جَعَلَ لَکُمْ الْاَرْضَ فِرَاشًا ( بقرۃ: ۲۳)معلوم ہوا کہ مھاد ہونا بھی زمین کی ایک صفت ہے اور فِرَاش ہونا بھی ایک صفت ہے۔چونکہ قیامت کے وقوع میں استبعاد عقلی ظاہر کیا گیا تھا۔اس لئے اپنی قدرت کاملہ سطوت اور جبروت کے چند ایک نظارہ قدرت کو پیش کیا۔مثلاً جبال۔خلق ازواج۔نوم و سبات۔سَبْعِ شِدَاد۔سِرَاجِ وَھَّاج۔وغیرہ کئی ایک عظیم الشان مشہود قدرتوں کو پیش کیا۔تاکہ عجز کا وہم دور ہو۔مَھْدٌ۔گہوارے کو کہتے ہیں۔زمین بھی ایک گہوارے کی طرح ہے۔سورج کے گرد گردش کرتی ہے۔انسان کا یہ گہوارہ ہے۔مٹی سے وہ پیدا ہوتا ہے۔پھر مٹی میں مِل جاتا ہے۔پھر مٹی سے اٹھایا جاوے گا۔اس زمین پر جزا و سزا کے اعمال کا ایک نقشہ اپنے سامنے دیکھتا ہے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍اپریل ۱۹۱۲ء) ۸۔۔: وَتَد کی جمع۔وَتد بمعنی کھونٹی جس سے اس جگہ مضبوطی جہاں کا اظہار بھی مقصود ہے۔پہاڑ ثقلِ ارض کو ایک اندازہ پر رکھنے والے ہیں۔آجکل کے سائنسدانوں نے بھی اس امر کو تسلیم کر لیا ہے۔کہ اگر زمین پر پہاڑ نہ ہوتے تو وہ جنبش کرتی رہتی۔اس میں زمین کی پیدائش اور بانوٹ کی طرف اشارہ ہے۔اور ان فوائد کی طرف توجہ دلائی ہے۔جو پہاڑوں سے اہلِ زمین کو حاصل ہیں۔چنانچہ دوسری جگہ قرآن شریف میں فرمایا ہے۔ (لقمان:۱۱) رکھے ہیں زمین میں پہاڑ تاکہ وہ کھانادیویں۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍اپریل ۱۹۱۲ء) حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اﷲ عنہ نے اپنی تصنیف ’’ نور الدّین‘‘ میں پہاڑوں کے بارے میں مزید تحریر فرمایا ہے۔’’ اعتراض: زمین پر پہار اس لئے رکھے کہ وہ آدمیوں کے بوجھ سے ہل نہ جاوے؟ الجواب: قرآن کریم میں اس مضمون کی کوئی آیت نہیں۔البتہ یہ آیت ہے۔ (نحل:۱۶) اس آیت میں