حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 309
سُوْرَۃَ النَّبَاِ مَکِّیَّۃٌ ۲،۳۔۔۔: نباء عظیم قیامت کے وقوع کا دن ہے۔جس میں ان کو اختلاف تھا۔نبأ عظیم الشان بات۔پھر اس کے ساتھ عظیم کے لفظ کو اہمیت کے اظہار کے لئے اور برھا دیا۔ہو سکتا ہے کہ نبأ عظیم سے مراد قرآن مجید اور پیغمبر صلی اﷲ و آلہٖ وسلم کی رسالت کا دعوٰی بھی مراد ہو۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍ اپریل ۱۹۱۲ء) ۵۔۔ زجر اور توبیخ کا کلمہ ہے۔بیان ماقبل کے ردّ کے لئے اتا ہے۔سَوْفَ نہیں فرمایا۔’’س‘‘ جو شتابی اور بے درنگی پر دلالت کرتا ہے۔لا کر اس بات کی طرف اشارہ کیا۔کہ قیامت کبرٰی کے ثبوت کے لئے اس سے پیستر ایک اور قیامت خیز واقعہ فتح مکّہ وغیرہ کا بھی ہو گا۔جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا وَ لَنُذِیْقَنَّھُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنن الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ ( السجدۃ:۲۲) یہ سورۃ شریفہ مکّی ہے۔ایسے وقت کی نازل شدہ جبکہ آنحضرت صلی اﷲ علیہ وسلم تنہا تھے۔اس وقت یہ عطیم الشان پیٗسگوئیاں دنیا کو سنائی گئیں۔جو آنحضرت صلی اﷲ علیہ و آلہٖ وسلم کی نبوّت کی صداقت اور قیامت کے ثبوت کے واسطے بین دلائل ہوئیں۔اس زمانہ کے مادہ پرست لوگ ٗغور کریں کہ کیا کوئی انسان اپنی تدبیر اور فکر سے ایسی تحدّی کے ساتھ اتنا بڑا دعوٰی خلقت کے سامنے پیس کر سکتا ہے۔کیا ایسی شاندار بات کوئی شخص صرف اٹکل بازی سے کہہ سکتا ہے؟ قیامت کے منکریں کے واسطے یہ دلائل نہایت ہی فائدہ بخش ہو سکتے ہیں۔بشرط آں کہ کوئی غور کرے۔( ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍اپریل ۱۹۱۲ء)