حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 307 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 307

عیسٰی علیہ السلام آسمان پر نہیں اُڑے۔قرآن کریم اس کی تکذیب کرتا ہے۔قرآن ایک کلّی قاعدہ ہر ایک ذی ہیات کے لئے باندھتا ہے۔اور اس قاعدہ کلیہ سے کسی کو مستثنٰے نہیں کرتا۔اس کے خلاف اعتقاد رکھنے والا قرآن کریم میں بتائی ہوئی خدا کی سنّت کامکذّب اور بے ایمان ہے۔وہ آیت یہ ہے:۔ہم نے زمین کو مُردوں اور زندوں دونوں کو اپنی طرف جذب کرنیوالی بنایا۔اس کی کششِ ثقل کسی کو اپنے اندر اور انے اوپر لینے اور رکھنے کے سوا چھوڑتی ہی نہیں۔( نورالدین طبع ثالث صفحہ ۹۸) اگر پتھر اوپر کو پھینکا جاوے۔تو زمین ہی کی کشش ہے کہ اس کو نیچے لا گراتی ہے۔زمین کی اس قوت کشس کو سائنس کی تحقیقات میں گراویٹیشن پاور کہتے ہیں۔جس کو اسی آیت میں  کہا گیا ہے۔ گَفَتن یَکْفِتُ سے نکلا ہے نہ کہ کفٰے یکفی سے۔کفٰی یکفی کے معنے کاوی ہونا۔اور کفات کے معنی اپنی قوت کشش سے چیزوں کو اپنی طرف کھینچنا اور سمیٹنا۔(ضمیمہ اخبار بر قادیان ۱۱؍ اپریل ۱۹۱۲ء) ۳۱۔۔: کسی سایہ کے تین ہی فائدے ہو سکتے ہیں ۱۔اوپرکی تپش سے بچائے ۲۔گردوپیش کی لپت سے بجائے ۳۔شرارے اور جنگاریوں سے امن حاصل ہو۔دوزخ کے دھوئیں کا سایہ۔اس میں یہ صفتیں کہاں قرآن شریف کی باہمی آیات میں کچھ نہ کچھ ربط مطالب کے لحاظ سے ضرور رہتا ہے۔دجّالی فتنوں کا ثبوت قران شریف کی اس آیت سے بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰث والسّلام نے لیا ہے۔جو سورۃ الدّخان میں ہے۔ (الدّخان:۱۱) عیسائیوں کی نجات کا اعتقاد باپ۔بیٹا۔روح القدس۔ان تینوں کے معجونِ مرکب پر ہے۔ان تینوں کا جز اعظم بیٹا ہے۔جو زمین کی اس کشس پر جس کا ذکر ماقبل آیت میں ہے۔غالب آ کر زندہ آسمان پر چڑھ گیا ( خدا کا بیٹا جو ہوا۔اس کو گراوی ٹیشن ۱؎ کی کیا پرواہ۔) اس آیت میں اسی معجون مرکب کو ثَلٰثِ شُعَبٍ سے تعبیر کیا ہے۔ربطِ آیات سے معلوم ہوتا ہے۔کہ نجات کے لئے نہ باپ