حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 306
جس قدر کوئی اﷲ تعالیٰ سے تعلق رکھے گا۔اسی قدر جنابِ الہٰی اس کو پکارے گا۔تو اس کی بات فورًا سُنی جائے گی۔( بدر حصّہ دوم صفحہ ۱۰۱ ۹؍ جنوری ۱۹۱۳ء) ۲۱۔۔: حقیر پانی سے۔تھوڑے ناقدرے پانی سے۔نبی۔ولی۔رسول۔بادشاہ۔امیر۔فقیر۔سب ہی اس مائِ مہین سے بنے ہیں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍اپریل ۱۹۱۲ء) ۲۲۔۔: ٹھہرنے کی جگہ۔محفوظ جگہ۔عورت کے رحم میں۔(ضمیمہ اخبار بدر قادیان ۱۱؍اپریل ۱۹۱۲ء) ۲۶،۲۷۔۔۔کیا نہ بنایا ہم نے زمین کو سمیٹنے والی زندوں کو اور مُردوں کو۔ کے معے سمیٹنے والی اپنی طرف کھینچنے والی۔ایک حدیث میں یہ لفظ اس طرح آیا ہے۔اَکْفِتُوْا صِبْیَانَکُمْ عِنْدَ ابنْتِشَارِ الظّنلَامِ فَاِنَّ فِی ھٰذِہِ السَّاعَۃِ لِلشَّیْطٰنِ خَطْفَۃٌ یعنی سمیٹ لو اپنے بچوں کو شام کے اندھیرے کے وقت۔کیونکہ اس وقت شیطان چھپٹا مار لیا کرتا ہے۔یوں بھی دیکھا گیا ہے کہ شام کے اندھیرے کے وقت اکثر مویشی وغیرہ بڑی سرعت اور تیزی کے ساتھ چراگاہوں سے دوڑتے ہوئے مکانوں کی طرف آتے ہیں۔ایسے وقت میں بچوں کا درمیان ا پڑنا ضرر اٹھانے کا باعث ہوتا ہے۔والدین یا سر پرستوں کو ہدایت فرمائی کہ ایسے وقت میں بچوں کو اپنی طرف کھینچ لو۔باہر نہ نکلنے دو۔غرض کہ کے معنے کھینچنے اور سمیٹنے کے ہیں۔خواہ مُردہ ہوں یا زندہ۔تر ہو یا خشک نباتات۔جمادات۔حیوانات۔سب کو زمین اپنی قوتب جاذبہ اور قوتِ کشس سے اپنی طرف کھینچ رہی ہے۔مسیحؑ کی موت حیات کا مسئلہ اس آیت سے بخوبی حل ہوتا ہے۔آیت شریفہ بتلا رہی ہے۔کہ مسیح ہوں یا کوئی دوسرا جاندار۔مُردہ ہو یا زندہ۔کسی کو بھی زمین نہیں چھوڑتی کہ اس سے جُدا ہو کر نکل جاویں اگر پرندے اڑتے ہیں۔تو تھوڑے عرصہ بعد پھر زمین ہی کی کشش سے اس کی طرف کھنچے چلے جاتے ہیں۔