حقائق الفرقان (جلد ۴)

by Hazrat Hakeem Noor-ud-Deen

Page 305 of 653

حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 305

جاتے ہیں۔پھر تو کوئی قرآن سنانے والا بھی نہیں ملتا۔زمینداروں ، دکانداروں کو فرصت کہاں۔میں نے صرف ایک شہر ایسا دیکھا ہے کہ جمعہ کے دن بازاروں کے دروازے بدن کر دئے جاتے ہیں اور سب جمعہ میں حاضر ہو جاتے ہیں۔کوئی مسلمان بازار میں نہیں پھر سکتا۔اور وہ شہر مدینہ ہے۔مکّہ میں بھی ایسا نہیں۔یہ بھی چالیس پچاس برس کی بات ہے۔اب کی کیا خبر ہے۔دکاندار۔حرفہ والے۔ملازم اپنے کاموں کی وجہ سے رہ جاتے ہیں۔عورتیں اور بچے جاتے ہی نہیں۔آجکل لوگوں نے کتابیں لکھی ہیں کہ جمعہ کوئی ضروری چیز نہیں۔عالمگیر نے ایک ایسی کتاب لکھوائی تھی۔اس میں عجیب عجیب ڈھکونسلے ادھر اُدھر کے بھر دیئے ہیں اس کے سبب لوگوں میں سُستی ہوئی اور اب تو صاف صاف جمعہ کی مخالفت میں کتابیں چھپنے لگیں۔کوئی لکھتا ہے کہ قربانی کی ضرورت نہیں۔ایک اخبار نے لکھا تھا کہ حج میں روپے خرچ کرنے کی بجائے کسی انجمن میں چندہ دے دے۔ایک شخص نے قرآن مجید کا ترجمہ کیا ہے۔اور روزوں کے بارے میں لکھا ہے کہ اگر امیر ہو تو کھانا دے دے۔غریب کو تو ویسے بھی معاف ہی ہے۔ایک شخص لکھتا ہے کہ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ ( الجمعہ: ۱۰) ہر قسم کا بیع چھوڑ دو۔پس ہر قسم کی بیع ہونی چاہیئے۔جہاں ہر قسم کی بیع نہ ہو وہاں جمعہ ضروری نہیں۔مَیں نے کہا کہ ہر قسم کی بیع تو لندن میں بھی نہیں ہوئی۔اِذَا النُّجُوْمُ : علماء یوں تباہ ہو رہے ہیں۔قرآن کے حقائق یوں کُھل جائیں گے۔اور بڑی بڑی سلطنتیں بھی قائم ہو جائیں گی۔ہمارے بعض دوست کہتے ہیں کہ ہم نے قرآن سمجھ لیا ہے۔دیکھو خوشی کی خبریں غم سے یوں مبدّل ہو جاتی ہیں جیسے مرسلات۔عصفات۔نفس کو اس کا مطالعہ کراؤ۔شیخ ابنِ عربی لکھتے ہیں کہ ایک صوفی تھے۔وہ حافظ تھے اور قرآن شریف کو دیکھ کر بڑے غور سے پڑھتے۔ہر حرف پر انگلی رکھتے جاتے۔اور اتنی اونچی آواز سے پڑھتے کہ دوسرا آدمی سُن سکے۔ایک شخص نے ان سے پوچھا کہ آپ کو تو قرآن شریف خوب آتا ہے۔پھر آپ کیوں اس اہتمام سے پڑھتے ہیں؟ فرمایا کہ میرا جی چاہتا ہے کہ میری زبان۔کان آنکھ۔ہاتھ سب خدا کی کتاب کی خدمت کریں۔ایک حضرت شاہ فضل الرحمان صاحب گنج مراد آبادی گزرے ہیں۔ان سے کسی نے پوچھا۔کہ آپ بہشت میں جائیں گے تو کیا کام کریں گے۔فرمایا۔ہم نے دیکھا ہے کہ ہمارے پاس حوریں آئیں۔ہم نے ان سے کہا۔جاؤ بیبیو۔قرآن پڑھو۔قرآن خدا کی کلام اور اس کی کتاب ہے۔