حقائق الفرقان (جلد ۴) — Page 304
ہے۔پھر وہی ہوا آہستہ آہستہ چلتی اور روح دروں کو خوش کرنیوالی یکدم ایسی بڑھ جاتی ہے کہ ایک تیز اندھی بن جاتی ہے۔میں نے ایسی آندھیاں دیکھی ہیں کہ ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دیتا۔بہت سے جانور دریاؤں میں گر جاتے ہیں بہت سے پرند درختوں سے گر جاتے ہیں اور دریا وغیرہ کے درخت جو سرو کی قسم سے ہیں اس طرح گرتے اور اُڑتے ہیں کہ نیچے بیٹھے ہوئے آدمی کا نام و نشان بھی باقی نہیں رہتا۔’’…۔ایسی بھی ہوائیں ہوتی ہیں کہ پانی کو اٹھاتی ہیں۔بادل لاتی ہیں۔پھر ایسی ہوائیں بھی ہوتی ہیں ۔وہ فرق کر دیتی ہیں۔بادلوں کو اس طرح اڑا کر لے جاتی ہیں جیسے روئی کا گالا۔خدائے تعالیٰ کا کلام بھی انسان کے کان میں ہوا ہی کے ذریعہ پہنچتا ہے۔ہوا کی لہریں بھی دماغ کے پردوں کو متحرک کر دیتی ہیں۔وہ ہوائیں اَ ہوتی ہیں اور وہی آوازیں بھی کان میں پہنچاتی ہیں اور وہ آوازیں۔کبھی خوشی کی ہوتی ہیں کبھی رنج کی ہوتی ہیں جو عاصفات کا رنگ پیدا کر دیتی ہیں۔مومن کی شان میں ایک ایسا لطیف فقرہ ہے۔دنیا میں کوئی دُکھ کو پسند نہیں کرتا۔قرآن شریف میں ہے (البقرہ: ۳۹) اگر تم مومن ہو اور سُکھ جاہتے ہو تو اس کتاب کی اتباع کرو۔اب دوردراز سے خبریں آتی ہیں کہ مسلمانوں کو یوں شکست ہوئی۔یوں تباہ ہوئے۔ایک شخص کا میرے پاس خط آیا۔وہ لکھتا ہے۔کہ مجھ کو دہریہ نام کا مسلمان مِلا۔وہ کہنے لگا۔خدا تعالیٰ تو اب مسلمانوں کا دشمن ہو گیا ہے۔لہذا ہم اسلام سے ڈرتے ہیں کہ کہیں خدا ہمارے پیچھے بھی نہ پڑ جائے۔اس لئے ہم تو اسلام کو چھوڑتے ہیں۔بھلا اس سے کوئی پوچھے کہ اس نے مسلمانوں جیسے کیسے کام کئے۔مسلمان اپنے اعمال کو ٹھیک کرتے اور پھر دیکھتے۔: ہوؤں میں وہ ہوائیں بھی ہیں۔کہ تم کو یاد دلانے کے لئے چلاتے ہیں یعنی لوگوں کے مونہہ سے تم کو سنواتے ہیں۔کہ خدا تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرو۔ایک بڑا حصّہ مسلمانوں کا ایسا ہے کہ اس کو اسلام کی خبر بھی نہیں۔اور اگر خبر ہے تو عامل نہیں۔میں تم کو بہت مرتبہ قرآن سُناتا ہوں۔بعض کہتے ہیں کہ ہزاروں مرتبہ تو سُن چکے ہیں۔کہاں تک سنیں؟ : ہم تو اس واسطے تم کو قرآن سناتے ہیں کہ کوئی عُذر باقی نہ رہے اور تم میں سے کوئی تو ڈرے! : پھر ایسا وقت بھی آ جاتا ہے کہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر دنیا سے مِٹ